کراچی ایک ایسا شہر۔۔۔۔جہاں سڑکیں صرف راستے نہیں، حادثوں کی گواہ بھی ہیں۔۔۔ایک ماں جس کی گود خالی ہو گئی، لیکن آنکھیں اب بھی عون کو ڈھونڈتی ہیں،۔۔۔۔ایک باپ
جس کے خوابوں کا مرکز، اب صرف تصویر میں مسکراتا ہےایک ننھا سا بچہ۔۔۔۔جس کی ہنسی وقت سے پہلے خاموش ہو گئی تیز رفتار ڈمپر نے ڈیڑھ سالہ بچے کو روند ڈالا
کراچی ملیر کی سڑک پر موت نے قدم رکھا
ایک ننھا سا خواب، ڈمپر کے نیچے کچلا گیا
عون... صرف ڈیڑھ سال کا تھا
ماں کی گود سے نکل کر ماموں کے ساتھ موٹر سائیکل پر بیٹھا
ملت روڈ پر ایک گڑھا آیا
موٹر سائیکل رکی
اور وقت تھم گیا
تیز رفتار ڈمپر نے سب کچھ روند ڈالا
عون کی سانسیں رک گئیں
ماموں سلمان زخمی ہو گئے
اور ماں... ماں خاموش ہو گئی
خالی جھولا،دیوار پر لٹکی چھوٹی سی شرٹ، ماں کی آنکھوں میں بے آواز چیخ، باپ کا لرزتا ہوا ہاتھ، جو اب کسی انگلی کو تھامنے کو ترس رہا ہے
عون... والدین کا اکلوتا بیٹا
جس کے کھلونے اب خاموش ہیں
جس کی ہنسی اب صرف یادوں میں گونجتی ہے
پولیس نے کارروائی کی
ڈمپر کلینر اور ساتھی گرفتار
ڈرائیور فرار
ڈمپر تھانے میں، لیکن انصاف ابھی راستے میں ہے
یہ صرف ایک حادثہ نہیں
یہ ایک خاندان کی دنیا اجڑنے کی کہانی ہے
ایک ماں کی ممتا کا ماتم
ایک باپ کی خاموشی کا نوحہ
اور ایک شہر... جو روز ایک بچہ کھو دیتا ہے
لیکن کبھی رک کر سوچتا نہیں