ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے 102 کمزور مقامات کی نشاندہی کر کے وہاں مشینری اور ایمرجنسی مواد پہنچا دیا ہے، زبیر چنّہ
تریموں سے پنجند آمد اور اخراج 4,93,159 کیوسک ریکارڈ، پانی کے بہاؤ تیزی سے گڈو بیراج کی طرف بڑھ رہا ہے،زبیر چنّہ
سپر فلڈ ریلیف اسٹریٹیجی کے تحت خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ 40 سے 50 فیصد متاثرہ آبادی ریلیف کیمپوں میں منتقل ہوگی،زبیر چنّہ
کراچی سندھ رین اینڈ فلڈ ایمرجنسی مانیٹرنگ سیل کے فوکل پرسن زبیر چنّہ کہتے ہیں کہ وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر چیف سیکریٹری سندھ کے دفتر میں 24/7 فلڈ ریلیف ایمرجنسی کنٹرول روم مکمل طور پر فعال ہے جہاں ریلیف کیمپوں اور عوامی شکایات کے لیے خصوصی نمبرز 021-99222967 اور 021-99222758 جاری کیے گئے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ محکمہ اطلاعات، آبپاشی، پی ڈی ایم اے، صحت، لائیواسٹاک اور جنرل ایڈمنسٹریشن محکموں کے افسران ہمہ وقت موجود ہیں جو عوامی شکایات کا ازالہ، سیلابی صورتحال کی معلومات کی فراہمی اور فیلڈ نمائندوں کے ساتھ ریلیف سرگرمیوں کے لیے رابطے میں ہیں۔ حکومت سندھ نے ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر بھرپور تیاری مکمل کر لی ہے اور صوبے بھر کے تمام بند مستحکم اور محفوظ حالت میں ہیں جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے 102 کمزور مقامات کی نشاندہی کر کے وہاں مشینری اور ایمرجنسی مواد پہنچا دیا گیا ہے۔ زبیر چنّہ نے تشویش کا اظہار کیا کہ تریموں سے پنجند کی طرف ہائی فلو کے خدشات ہیں۔ 9 بجے کے ڈیٹا کے مطابق تریموں سے پنجند کی طرف آمد اور اخراج 4,93,159 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پنجند سے پانی کے بہاؤ میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے جو تیزی سے گڈو بیراج کی طرف بڑھ رہا ہے۔ زبیر چنّہ نے بتایا کہ سکھر ڈویژن میں گھوڑی، سکھر اور خیرپور۔۔لاڑکانہ ڈویژن میں کشمور، جیکب آباد اور لاڑکانہ۔ حیدرآباد ڈویژن میں دادو، جامشورو، مٹیاری، ٹنڈو محمد خان، سجاول اور ٹھٹہ جبکہ شہید بینظیر آباد ڈویژن میں نوابشاہ کی صورتحال پر خصوصی نظر رکھی جا رہی ہے۔ سکھر تا گڈو 515 ریلیف کیمپ اور 300 لائیواسٹاک کیمپ قائم کیے گئے ہیں، جبکہ سندھ حکومت کی جانب سے 192 اور مجموعی طور پر 272 ریلیف کشتیاں دستیاب ہیں جن میں فورسز کی کشتیاں بھی شامل ہیں۔ سپر فلڈ ریلیف اسٹریٹیجی کے تحت خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ 40 سے 50 فیصد متاثرہ آبادی ریلیف کیمپوں میں منتقل ہوگی جبکہ باقی اپنے رشتہ داروں کے پاس محفوظ مقامات پر چلی جائے گی۔ محکمہ صحت اور پی پی ایچ آئی کی تمام طبی سہولیات کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ ڈاکٹروں اور ادویات کی دستیابی کو 24 گھنٹے یقینی بنایا گیا ہے۔ زبیر چنّہ نے مزید بتایا کہ سانپ اور کتے کے کاٹنے کی صورت میں فوری طبی امداد کے لیے خصوصی فارم جاری کیے گئے ہیں اور 70 سے زائد موبائل ہیلتھ یونٹس کو خطرناک اضلاع میں تعینات کیا گیا ہے۔ ڈسٹرکٹ انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ عوام کو بہترین ممکنہ طبی اور ریلیف سہولت فراہم کی جائے۔ سندھ نے 2010 میں 11 لاکھ کیوسک سے زائد سپر فلڈ کو کامیابی سے سنبھالا تھا اور اس کے بعد سے بندوں کی صورتحال مزید بہتر بنائی گئی ہے۔