سندھ اسمبلی ، جمہوریت، دعویدار اور پولیس کا کردار

عرفان علی عرفان علی

 سندھ اسمبلی ، جمہوریت،  دعویدار اور پولیس کا کردار

 

 

 

کیا احتجاج کرنا جمہوری روایت نہیں۔

چوہدری ، خان، وڈیرہ ، نواب ، سردار اور یہاں تک کہ ایک عام آدمی بھی اس سوچ اور خیال کو پروان چڑھنے نہیں دیتا ہےکہ وہ مخالفت میں بات سنے۔

اعتراض اٹھائے سوال اٹھائے، حق کا علم بلند کریں۔

فرسودہ روایتی معاشرے کے خلاف صدائے حق بلند کریں۔ یہ کیسا نظام ہے ؟۔سمجھ نہیں آتا ، جہاں جمہوریت کا راگ الاپنے والے جمہوریت کہتے کہتے تھکتے نہیں۔ آمریت کے مد مخالف باتیں کرنے والے۔

انسانی رویوں اور جذبات سے کھیلنے والے آخر کب انسان  ہونے کے اخلاقی تقاضے پورے کرینگے۔

سندھ اسمبلی کی ایک روایت یہ بھی رہی ہے یہاں پر ذیادہ تر سیاست دان نسل درنسل منتخب ہوتے آرہے ہیں۔ اس کے باجود بھی جمہوری رویہ آخر کیوں نہیں ۔

کیوں یہ غلام اور آقا کا رویہ اختیار کیا ہوا۔

پڑھے لکھے ۔ بہترین ملکوں میں رہنے والے وہاں سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے بھی اس سوچ اور خیال کے حامی ہیں۔ اس طرح کا نظام بھلا کیسے بہتری کی بات کرسکتا ہے کیسے تبدیلی اور اچھائے کی بات کرسکتاہے۔

گزشتہ روز سندھ اسمبلی میں حلف برداری کی تقریب کے دوران جی ڈی اے کی خواتین  کے احتجاج پر جس طرح سندھ پولیس نے انہیں بالوں سے پکڑا ، گھسیٹا ،پولیس گاڑی میں پھینکا، تھپڑ مارے ۔ اصل میں یہ تھپڑ اس معاشرے کی سوچ کو انہوں نے مارا ہے جو نسل در نسل اس غلامی کو قبول کرتا ہے تبدیلی اور بہتری اور نیا امیدوار لانے کے لیے کچھ نہیں کرتا۔

فخر سے ہم کہہ سکتے ہیں اس گھٹن زدہ ماحول میں کوئی تو حق اور سچ کےلیے گھر سے باہر نکلا ۔

آواز اٹھائے چیخ ماری ، اس گندگی اور بدبو دار نظام کے خلاف جہاں من پسندوں لوگوں کو آقا کیسے منتخب کراتےآئے ہیں۔

خواتین کی مارپیٹ کی ویڈیو پر کسی نے اسے برا نہیں کہا۔

اس کا مطلب یہی ہے جو چل رہاہے چلنے دیں ہم کیوں اپنے آپ کو مشکل میں ڈالے اپنے مخالف پیداکریں کس قدر ہم خود غرض ہے کس حد تک ہم بےحس ہیں یہ سوچ کر مزید گھٹن کا احساس ہوتاہے اس بدبودار نظام کا ہم حصہ ہے جہاں حق کو حق نہیں کہا جاتا ۔