موسمیاتی تبدیلی سے تعلیمی شعبہ متاثر، خیبر پختونخوا میں 48 اسکول سیلاب سے تباہ
پشاور: خیبر پختونخوا کے وزیر تعلیم فیصل ترکئی نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات نے پورے ملک کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں صوبے میں 48 اسکول سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔
وزیر تعلیم نے بتایا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے تعلیم کے شعبے کے لیے 364 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا ہے، جس میں 11 فیصد اضافہ شامل ہے۔ اس بجٹ میں 345 ارب روپے کرنٹ اخراجات اور 19 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں کے لیے رکھے گئے ہیں۔
تعلیم کے شعبے میں اہم اقدامات:
• 285,000 طالبات خصوصی تعلیمی پروگرامز کے تحت تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔
• 1,200 نئے اساتذہ کو صوبے کے 20 اضلاع میں تعینات کیا جا رہا ہے۔
• کچھ اسکولوں کو آؤٹ سورس کرنے کا عمل جاری ہے، جسے حکومت نے "شفاف اشتراک" قرار دیا ہے۔
• اساتذہ کے کچھ واجبات ادا کر دیے گئے ہیں۔
• حکومت کا ہدف ہے کہ اگلے سال 49 لاکھ بچے اسکولوں میں واپس لائے جائیں۔
وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں تعلیمی اصلاحات کے تحت ٹیچرز لائسنسنگ پروگرام، گرلز کمیونٹی اسکولز، سمارٹ کلاس رومز اور تعلیم کارڈ جیسے منصوبے بھی شامل کیے گئے ہیں۔
یہ اقدامات نہ صرف تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کی کوشش ہیں بلکہ موسمیاتی چیلنجز کے باوجود تعلیم کو جاری رکھنے کی حکومتی عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔