قسط نمبر 1
تحریر و تحقیق اور تجزیہ : فوزیہ جمیل
ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات پر بحث و مباحثہ آج کی ضرورت ہے، نومبر کے مہینے میں منعقد کی جانے والی کوپ کا مقصد بھی عالمی سطح پر ماحولیاتی تبدیلی کے منفی اثرات اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل کے دیرپا حل کے لیے مستبل کے اقدامات کا تعین کرنا ہے۔ دراصل کوپ، بین الاقوامی ماحولیاتی کنونشنز، بنیادی طور پر UNFCCC اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن آن کلائمیٹ چینج کا اعلیٰ ترین فیصلہ ساز ادارہ ہے۔ 10 نومبر سے جاری کانفرنس کے مختلف سیشنز میں مختلف اہداف ہی نشاندہی کی جا ئے گی اور ان کے حل کے لیے مستقبل کی پلاننگ کی جا ئے گی۔
اس سے پہلے کے ہم کوپ 30 کے حوالے سے جانیں ضروری ہے کہ ایک طائرانہ نظر ماضی میں منعقد ہوئی ان تمام کوپ مجالس پر ڈالیں جس سے ہمیں اوائل سے کیے گئے اقدامات، جدو جہد، وعدوں، اور مکمل کئے گئے اہداف کی نشاندہی ہو سکے۔ کانفرنس آف دی پارٹیز( کوپ )اقوام متحدہ کے ماحولیاتی معاہدے یونائیٹڈ نیشنز فریم ورک کنوینشن آن کلائمٹ چینج کے رکن ممالک کی سالانہ اجلاس کی ایک سیریز ہے۔ اس اجلاس میں دنیا بھر کے ممالک، ماہرین، محققین، سول سوسائٹی، اور بین الاقوامی ادارے شرکت کرتے ہیں تاکہ وہ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات پرپالیسی سازی کر سکیں۔ 1992 میں برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں ہونے والی ارتھ سمٹ میں اقوام متحدہ نے یونائیٹڈ نیشن فریم ورک کنوینشن ان کلائمٹ چینج کے تصور کوحقیقی شکل دی اور 21 مارچ 1994 کو نافذ العمل قرار دیا گیا۔ اور اسی کے تحت 1995 میں پہلی کانفرنس آف پارٹیز یعنی کوپ ون برلن، جرمنی میں منعقد کی گئی۔ ابتدائی طور پرکوپ کے مقاصد میں عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی، کاربن فوٹ پرنٹ کا خاتمہ، ماحولیاتی حقوق، آبادیاتی مسائل، تکنیکی صلاحیتوں کی منتقلی، استعداد کار میں اضافہ کے لیے اجتماعی اقدامات کا تعین کرنا ہے، بڑھتے ہوئے ماحولیاتی بحران اور درجہ حرارت میں اضافے کو روکنے کے لیے ایک مشترکہ عالمی پلیٹ فارم قائم کرنا، ممالک کے درمیان معاہدے اور اہداف طے کرنا۔ترقی پذیر ممالک کے لیے مالی مدد کرنا رہا۔
کوپ کیا ہے؟
کوپ کو قائم کرنے میں کردار ادا کرنے والے بانی اداروں میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) اور یو این ماحولیاتی پروگرام (UNEP) نے 1980 کی دہائی میں ماحولیاتی تبدیلی پرعالمی سطح پر بحث کا آغاز کیا۔عالمی موسمیاتی تنظیم (WMO) اور 1988 میں قائم ہونے والا ادارہ انٹرگورنمنٹل پینل آن کلائمیٹ چینج (IPCC) نے اس مسئلے پرسائینٹیفک دلائل کے ساتھ مسائل کے اہمیت کی بنیاد فراہم کی۔ انہی کوششوں کے نتیجے میں 1992 میں UNFCCC وجود میں آیا اور اس کے تحت COP کا قیام عمل میں لایا گیا۔
اہم معاہدے
اسی کے ماتحت، کیوٹو پروٹوکول (کوپ 3) 1997، اور پیرس ایگریمنٹ (کوپ 21) 2015 بھی کیا گیا جو کہ بڑے سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔
1997 میں کوپ 3 کے دوران "کیوٹو پروٹوکول" کوپیش کیا گیا یہ پہلا معاہدہ تھا جس نے صنعتی ممالک پر قانونی ذمہ داری عائد کی کہ وہ ماحولیاتی آلودگی کم کریں۔ اس کے اہم نکات یہ تھے کہ گیسس کے اخراج میں کمی کے اہداف متعین کئے گئے، 37 صنعتی ممالک اور یورپی یونین نے نے یہ ہدف متعین کیا کہ وہ 2008–2012 کے دوران اپنے اخراجات کو 1990 کی سطح سے اوسطاً پانچ فیصد کم کریں گے۔ ترقی پذیر ممالک جنہیں تیسری دنیا کے ممالک بھی کہا جاتا جن میں نمایاں پاکستان، بھارت، چین پر کوئی لازمی اہداف نہیں رکھے گئے، مگر انہیں ماحولیاتی منصوبوں میں شامل کیا گیا۔ کیوٹو پروٹوکول میں کاربن مارکیٹ کے تین مکینیزم کو متعارف کروایا گیا۔ کلین ڈویلپمنٹ مکینیزم جس میں صنعتی ممالک اپنے کاربن اخراج کے اہداف کو کم کرنے کے لیے ترقی پذیر ممالک میں ماحول دوست منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دی گئی یعنی ایک ترقی یافتہ ملک اگر اپنے ملک میں اخراج کم نہیں کر پا رہا، تو وہ کسی ترقی پذیر ملک جیسے پاکستان، بھارت، یا نائجیریا میں کوئی ماحول دوست منصوبہ مثلاً سولر انرجی، ونڈ فارم، میتھین کیپچر، یا جنگلات کی بحالی، شروع کر کےکاربن کریڈٹس حاصل کر سکتا ہے۔ یہ "کاربن کریڈٹ" اس کے اپنے اخراج میں کمی کے برابر تصور کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر ایک ترقی یافتہ ملک کواپنے کاربن کے اخراج میں 10 لاکھ ٹن کمی کرنی ہے، اور وہ ملک کسی ترقی پزیر ملک میں 100 میگا واٹ ونڈ انرجی پلانٹ لگائے اور اگر اس سے اس ترقی پزیر ملک کے سالانہ 5 لاکھ ٹن کاربن کے اخراج میں کمی ہوتی ہے تو سرمایہ کاری کرنے والے ملک کو 5 لاکھ کاربن کریڈٹس مل جاتے ہیں۔یہ کریڈٹ سرمایہ کاری کرنے والا ملک اپنے کیوٹو اہداف میں شمار کر لیتا ہے۔ دوسرا مکینیزم JI یعنی جوائنٹ ایمپلیمینٹیشن یہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک آپس میں منصوبوں کے زریعے اپنے کاربن کے اخراج کے کریڈٹس کو بانٹ سکتے ہیں۔ تیسرا مکینیزم امیشن ٹریڈنگ یعنی کاربن ٹریڈنگ یہ ہے کہ ممالک آپس میں اضافی اخراج کی ٹریڈنگ کر سکیں۔ اس نظام کو دوسرے لفظوں میں کیپ اینڈ ٹریڈ سسٹم کہا جاتا ہے۔ کیپ سے مراد وہ زیادہ سے زیادہ حد (Limit) جو حکومت یا بین الاقوامی ادارہ کسی ملک، شعبے، یا کمپنی کے لیے گرین ہاؤس گیسوں (GHGs) کے اخراج پر مقرر کرتا ہے یہ نظام کچھ اس طرح کام کرتا ہے کہ کیپ کی حد مقرر کرنے کے بعد امیشن الاؤنس یعنی کاربن کریڈٹ اجازت نامے دئیے جاتے ہیں، مثال ک طور پر ایک فیکٹری کو سالانہ 1,000 ٹن CO₂ کے اخراج کی اجازت ہے اگر کوئی کمپنی اپنے اخراج کو مقررہ حد سے کم رکھتی ہے،
تو وہ اضافی Allowances یا Carbon Credits بیچ سکتی ہے۔ اور اگر کوئی کمپنی زیادہ اخراج کرتی ہے، تو اسے دوسروں سے Carbon Credits خریدنے پڑتے ہیں۔ نتیجتاً جو کمپنیاں کم آلودگی پیدا کرتی ہیں، انہیں مالی فائدہ ہوتا ہے اور جو زیادہ آلودگی کرتی ہیں، انہیں مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ کیوٹو معاہدے کے تحت دستخط کرنے والے تمام ممالک کواپنی کاربن اخراج کی رپورٹ جمع کرانی ہوتی تھی۔ کیوٹو پروٹوکول سے امریکہ نے 2001 میں علیحدگی اختیار کرلی، 2012 کے بعد دوحہ ترمیم کے زریعے اس کا دوسرا دور شروع کیا گیا لیکن کچھ بڑے ممالک نے شمولیت نہیں کی، لیکن اس کا مثبت نتیجہ یہ نکلا کہ پہلی بار ممالک میں کلائمیٹ اکاؤنٹیبیلیٹی یعنی ماحولیاتی شماریات کی ابتدا ہوئی اور اس کے زریعے ممالک کو قانوناً ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔
پیرس معاہدہ فرانس میں دسمبر 2015 میں سامنے لایا گیا لیکن اس کا حقیقی عملی نفاذ 4 نومبر 2016 میں ہوا، اس کا اہم مقصدعالمی درجہ حرارت میں اضافے کو 2 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے رکھنا، اور کوشش کرنا کہ اسے 1 اعشاریہ 5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود کیا جائے۔ کیوٹو پروٹوکول کے بعد دنیا کو ایک نئے، جامع، اور تمام ممالک پر یکساں لاگو معاہدے کی ضرورت تھی۔ اس لیے پیرس میں تقریباً 197 ممالک نے ایک ایسا معاہدہ کیا جس میں سب نے شمولیت کی چاہے وہ وہ ترقی پذیر ملک ہو یا ترقی یافتہ ملک ہو۔ اس کے اہم نکات میں درجہ حرارت میں کمی کا ہدف ترتیب دیا گیا، جس میں پری انڈیسٹریل لیول کو 2 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم رکھے جانے کی استعدا کی گئی۔اخراج میں کمی کا خودمختاراہداف متعین کرنا( نیشنل ڈیٹرمائین کنٹریبیوشن) یعنی، ہر ملک خود اپنی کاربن کے اخراج میں کمی کے اہداف طے کرے گا اور ہرپانچ سال بعد یہ اہداف دوبارہ اپڈیٹ کرنے ہوں گے تاکہ زیادہ موثر رہیں۔ اسی طرح کلائمیٹ فنانس بھی ان نکات میں شامل کیا گیا جس کے تحت، ترقی یافتہ ممالک ہر سال کم از کم سو بلین ڈالر فراہم کریں گے تاکہ ترقی پذیر ممالک ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے منصوبے بنا سکیں۔ 2021 کے بعد کوپ 26 جوگلاسگومیں ہوئی اور کوپ 28 جو دبئی میں منعقد کیا گیا اس میں پیرس معاہدے کے اہداف کو مزید بہتر بنانے پر بات کی گئی.
کوپ کی تاریخ کا خلاصہ
کوپ 1 برلن، جرمنی میں 1995 میں منعقد ہوئی، اس میں "برلن مینڈیٹ" منظورہوا جس میں یہ طے کیا گیا کہ صرف رضا کارانہ عمل اور وعدوں کی بجائےصنعتی ممالک پر زیادہ ذمہ داری ڈالنے کی ضرورت ہے۔ کوپ 2 جنیوا، سوئٹزر لینڈ میں 1996 میں منعقد ہوئی، اس کی خاص بات یہ تھی کہ ا س میں آئی پی سی سی کی سائنسی رپورٹ کو تسلیم کیا گیا؛ اور کہا گیا کہ درمیانی مدت کے قانونی اہداف پر بات ہونی چاہیے، مگر "ہم آہنگ پالیسیاں" ہر ملک کے لیے یکساں نہ ہوں۔ کوپ 3 کا انعقاد کیوٹو، جاپان میں 1997 میں کیا گیا، یہاں کیوٹو پروٹوکول کے طریقہ کا ر کو واضح طور پر بیان کیا گیا، یہ کلائیمٹ کے تحت پہلا قانونی معاہدہ تھا۔ اس معاہدے کے تحت صنعتی ممالک کو گیسوں میں کمی کے اہداف دیے گئے۔ کوپ 4 کو بیونس آئرس، ارجنٹائن میں1998 میں منعقد کیا گیا، یہاں"بیونس آئرس ایکشن پلان" پیش کیا گیا تاکہ پروٹوکول کی مزید تکمیل اور مستقبل کی منصوبہ بندی ممکن بنائی جا سکے ۔ کوپ 5 کا انعقاد 1999 میں بون، جرمنی میں کیا گیا، اس میں خاص طور پر کیوٹو پروٹوکول کے نفاذ پر ذور دیا گیا، کوپ 6 کو 2000 میں منعقد کیا گیا جس کے دو دور چلے پہلی نشست دی ہیگ، نیدر لینڈ اور دوسری کوپ 6-بس، بون میں ہوئی، اس میں خصوصاً مالی اور شراکتی معاملات پر، اور یہ طے کرنا مشکل تھا کہ کس ملک کو کونسا حصہ لینا ہے۔ کوپ 7 جو کہ 2001 میں مراکش میں ہونے والی اس کانفرنس میں بجا طور پر ایک اہم سنگِ میل عبور کیا گیا۔ یہاں، مراکش اکوورڈ پیش اور منظور ہوئی، جن میں یہ طے ہوا کہ کیوٹو پروٹوکال کو کس طرح عملی طور پر نافذ کیا جائے گا۔ اس میں رپورٹنگ کے اصول، مالیاتی تعاون کے طریقۂ کار، شفافیت، اور تکنیکی پہلوؤں سے متعلق واضح رہنما اصول شامل شامل کئے گئے تھے۔ کوپ 8 کا اجلاس بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی 2002 میں منعقد ہوا، جس کا بنیادی موضوع عالمی شراکت داری اور تکنیکی تعاون کو مضبوط بنانا تھا۔ یہاں اس بات پر زور دیا گیا کہ ماحول کے تحفظ کے لیے ترقی پذیر ممالک کو زیادہ مؤثر طریقے سے شامل کیا جائے اور انہیں ضروری سہولیات فراہم کی جائیں۔ کوپ 9 اٹلی کے شہر میلان میں 2003 کو ہونے والے اجلاس میں ماحولیاتی تحقیق، تکنیکی تبادلے، اور عملی موسمیاتی اقدامات پر بحث کی گئی اس کانفرنس نے سائنس اور تکنیکی پیش رفت کو کلائیمٹ ایکشن سے جوڑنے کے لیے مزید راہ ہموار کی۔ 2004 میں ارجنٹائن کے دارالحکومت بیونس آئرس میں ایک بار پھر کوپ 10 کا انعقاد ہوا، جہاں پچھلے اقدامات پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ مستقبل کی حکمتِ عملیوں اور مااحولیاتی اور موسمیاتی منصوبہ بندی کے لیے مذاکرات ہوئے، تاکہ عملی اقدامات کی رفتار بڑھائی جا سکے۔ 2005 میں مونٹریال، کینیڈا میں ہونے والے کوپ 11کے تاریخی اجلاس میں " مونٹرائیل ایکشن پلان منظور کیا گیا منظور کیا گیا۔ اس کے تحت یہ فیصلہ ہوا کہ کیوٹو پروتوکول کو 2012 کے بعد بھی جاری رکھنے کے لیے مذاکرات شروع کیے جائیں اور اس طرح کیوٹو پروٹوکول کے عملی نفاذ کی باقاعدہ ابتدا ہوئی۔ 2006 میں کینیا کے شہر نائروبی میں منعقد ہونے والے کوپ 12 کے اجلاس میں ترقی پذیر ممالک کی تکنیکی اور مالی ضروریات کو مرکزی اہمیت دی گئی اور ان ممالک کے لیے مالی و تکنیکی تعاون بڑھا کر ان کی صلاحیت کو بڑھانے پر خاص حکمت عملی کی گئی۔ 2007 میں انڈونیشیا کے جزیرے بالی میں منعقدہ COP13 میں "بالی ایکشن پلان" پیش کیا گیا جو ایک نئے عالمی معاہدے کی طرف بڑھنے کے لیے راہ ہموار کرتا تھا اس حکمت عملی میں میٹیگیشن، ایڈاپٹیشن، ٹیکنالوجی ٹرانسفر، مالی تعاون، اور جنگلات کے تحفظ کو شامل کیا گیا۔ 2008، کوپ 14،پولینڈ کے شہر پوسنان میں ہونے والے اجلاس میں بنیادی طور پر مالیاتی مکینزم اور تکنیکی مدد کے نظام پر غور کیا گیا۔ ممالک نے مستقبل کے اہداف حاصل کرنے کے لیے عملی جامع تعاون کے طریقوں پر بحث کی۔ 2009، ڈنمارک کے شہر کوپن ہیگن میں ہونے والی کوپ 15 کانفرنس انتہائی اہم مگر متنازع رہی۔ اگرچہ کوئی قانونی معاہدہ طے نہ ہو سکا، لیکن گرین کلائیمٹ فنڈز کے قیام کا تصور مضبوط ہوا تاکہ ترقی پذیر ممالک کو مالی معاونت فراہم کی جا سکے۔ 2010، میں میکسیکو کے شہر کنکون میں کوپ16 کی کانفرنس کے نتیجے میں "کنکون اڈاپٹیشن فریم " تشکیل دیا گیا اور مالیاتی تعاون پر اتفاق ہوا۔ اس اجلاس نے خاص طور پر کم ترقی یافتہ ممالک کی مدد کے لیے نئے اقدامات متعین کیے۔2011، جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں ، کوپ 17 کے دوران "ڈربن پلیٹ فارم " منظور ہوا، جس نے ایک نئے عالمی معاہدے کی بنیاد رکھی۔ اس معاہدے کا مقصد 2020 کے بعد کی موسمیاتی پالیسی کے لیے ایسی فریم ورک تیار کرنا تھا جس میں تمام ممالک شامل ہوں۔ 2012، میں قطر کے شہر دوہا میں ہونے والی کوپ 18 میں Kyoto Protocol کی مدت کو 2020 تک بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا، جسے"دوحہ ترمیم" کہتے ہیں۔ اس نے عالمی کلائمٹ ایکشن کے عمل کو تسلسل کے ساتھ جاری رہنے کی راہ ہموار کی۔ 2013، پولینڈ کے شہر وارسا میں ، کوپ 19 کے دوران جنگلات کے تحفظ اور کاربن اسٹوریج کے لیے میکینزم میں بڑی پیش رفت ہوئی۔ یہ ترقی پذیر ممالک کے لیے مالی اور تکنیکی عملی اقدام کا نیا باب تھا۔ 2014، پیرو کے دارالحکومت لیما میں ہونے والی ، کوپ 20 کانفرنس میں ممالک نے اپنے پہلے (NDCs) Nationally Determined Contributions تیار کرنے کے لیے رضا مندی ظاہر کی، تاکہ عالمی درجہ حرارت کو کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائیں جائیں۔ 2015، میں ، کوپ 21، کے دوران فرانس کے شہر پیرس میں عالمی تاریخ کا سب سے اہم کلائیمٹ معاہدہ ہوا، جسے، "پیرس معاہدہ" کہا جاتا ہے۔ 197 ممالک نے عہد کیا کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافےکو 2 ڈگری سینٹی گریڈ سے بہت نیچے” اور ممکن ہوا تو 1 اعشاریہ 5 ڈگری تک محدود رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ یہ معاہدہ عالمی سطح پر کلائیمٹ کے حوالے سے ایک بہترین جامع قدم تصور کیا جاتا ہے۔ 2016، کو مراکش میں ہونے والی کوپ 22 بنیادی طور پر پیرس معاہدے کے اطلاق کے طریقۂ کار طے کرنے پر مرکوز تھی۔ تکنیکی قواعد، رپورٹنگ، شفافیت اور مالی نظام کے لیے تفصیلی مسودے تیار کیے گئے۔ 2017 میں جرمنی کے شہر بون میں، فجی کی صدارت کے تحت ہونے والی ، کوپ 23 کے اجلاس میں عمل درآمد کے عملی پہلوؤں اور مالی تعاون پر بات کی گئی۔ کئی ممالک نے اپنے NAPs اور NDCs کو اپ ڈیٹ کیا۔2018 میں پولینڈ کے شہر کاتوویس میں ہونے والی کوپ 24 کے اجلاس میں" کاتوویس کلائمٹ پیکج منظور ہوا منظور کیا گیا جو کہ پیرس معاہدے کے رسمی اصول و ضوابط کا کتابچہ تھا۔ اس میں شفافیت، رپورٹنگ، NDC جمع کرانے کے وقت اور طریقے کار کو واضح کیا گیا تھا۔2019، کوپ 25 کا اجلاس سپین کے شہر میڈرڈ میں ہوا زیادہ تر مالیاتی اور کاربن مارکیٹ کے ضابطوں کو طے کرنے کی کوشش کی گئی تاہم، کئی اہم مسائل پر اتفاق رائے نہ ہو سکا اور مذاکرات متوقع نتائج تک نہیں پہنچ سکے۔2021، کوپ 26 گلاسگو میں منعقدہ COP26ہوئی جس میں گلاسکو کلائیمٹ پیکٹ کو منظور کیا گیا، جس میں پہلی بار فوسل فیول، خصوصاً کوئلے کے استعمال میں کمی کے کیے واضح الفاظ میں استعدا کی گئی۔ پیرس معاہدے کے "اصول و ضوابط کے کتابچے" کے کئی اہم حصے حتمی کیے گئے، اور مالی تعاون کو مزید بڑھانے پر زور دیا گیا۔2022 میں مصر کے شہر شرم الشیخ میں ہونے والیکوپ 27 کو “Implementation COP” کہا گیا۔ یہاں سب سے اہم پیش رفت""Loss and Damage Fund کا قیام تھا، جو موسمیاتی آفات سے متاثرہ ممالک کی مالی مدد کے لیے ایک بڑا قدم تھا۔ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کے حوالے سے موافقت کے اہداف اور مالی امداد میں بھی پیش رفت ہوئی۔ 2023، میں دبئی میں ہونے والی کوپ 28 میں پہلی " اسٹاک ٹیک"(GST) پیش کی گئی، جس میں پیرس معاہدے کے تحت دنیا کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ اس کانفرنس کا سب سے اہم قدم یہ تھا کے فوسل فیول سے منتقلی پر اوتھ لیا اور اسے منصفانہ، منظم اور ذمہ دار انداز میں انجام دینے کا وعدہ کیا۔
کوپ 29 جوکہ نومبر 2024 میں آذربائیجان کے شہر باکو میں منعقد ہوئی ,مالی امداد کے عملی قدم کے لیے مثبت ثابت ہوئی۔ اس کانفرنس میں ترقی یافتہ ممالک نے اتفاق کیا کہ وہ 2035 تک کم ترقی یافتہ ممالک کو کم از کم سالانہ 300 بلین امریکی ڈالر فراہم کریں گے، جوکہ پہلے طے شدہ 100 بلین ڈالر کے ہدف سے تین گنا زیاد تھا انہوں نے وسیع تر ہدف بھی طے کئے۔ جوکہ مجموعی طور پر 1 اعشاریہ 3 ٹریلین ڈالر سالانہ بنتا ہے، جو کہ نہ صرف سرکاری بلکہ نجی ذرائع سے بھی اکٹھا کیا جائے گا۔ ایک اور کلیدی پیش رفت Paris Agreement" پیرس معاہدے کی شق آرٹیکل 6 کے تحت کاربن مارکیٹس کے اصولوں کو حتمی شکل دینا تھا، جس سے عالمی اور دوطرفہ کاربن تجارت کو قانونی اور منظم انداز میں کرنے میں مدد ملے اس کے علاوہ کوپ 29 میں لاس اینڈ ڈیمج فنڈ کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ موسمیاتی نقصان کے شکار ممالک کو مالی امداد مل سکے، اور یہ فنڈ 2025 سے فنڈنگ شروع کرے گا۔ شفافیت کے لیے بھی باکو نے اہم نکات طےجس میں باکوگلوبل کلائیمٹ ٹرانسپیرینسی پلیٹ فارم کی بنیاد رکھی گئی اور ترقی پذیر ملکوں کو اپنی رپورٹس یونی بائی نیل ٹرانسپیرنسی کرنے میں مالی و تکنیکی مدد دینے پر اتفاق ہوا۔ آخر میں، کانفرنس نے جینڈر اور موسمیاتی تبدیلی پر ایک نیا پلان اپنانے کا فیصلہ کیا لیما ورک پروگرام کو مزید دس سال کے لیے بڑھایا گیا۔
پاکستان کے لیے اہمیت، افادیت اور سفارشات
تین دہائیوں سے جاری ماحولیاتی اجلاس (COPs) پاکستان کے لیے کس قدر اہمیت کی حامل ہے اس کے لیے ہمیں تمام تر اہداف اور ان کے تحت کئے جانے والے اقدامات جو کہ ترقی پذ یر ممالک کے لیے ، لیے گئے ، ان کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر اور موسمیاتی لحاظ سے انتہائی کمزور ملک کے لیے یہ فورم نہ صرف عالمی آواز اٹھانے کا ذریعہ ہے بلکہ فنڈنگ، ٹیکنالوجی، موافقت ، قدرتی آفات سے نقصانات و تباہی میں پالیسی تشکیل دینے کے لیے مدد بھی فراہم کرتا ہے۔ COP1 سے لے کر COP29 تک کا سفر پاکستان کے لیے عالمی موسمیاتی نظام میں اپنی جگہ بنانے، فنانس تک رسائی بڑھانے اور عالمی قوانین کے مطابق داخلی پالیسیاں تیار کرنے کا ایک انسٹیوٹ رہا ہے۔
کوپ 1 (برلن ، 1995 )سے لیکر کوپ 3، 1997 کیوٹو) کے دوران دنیا نے پہلی مرتبہ گرین ہاؤس گیسوں میں کمی کے لیے قانونی طور پر لائحہ عمل تیار کیا گیا، اگرچہ پاکستان کا عالمی کاربن اخراج نہ ہونے کے برابر تھا، لیکن یہ دور پاکستان کے لیے اس لیے اہم تھا کہ اسے پہلی مرتبہ ایک ایسے قانونی اور سفارتی نظام "مشترکہ مگر مختلف ذمہ داریوں " کے اہم نکتے پرشمولیت اختیار کرنے کا موقع ملا۔ اس ہدف نے پاکستان کو یہ جواز دیا کہ وہ کم اخراج کے باوجود اپنی کمزوری اور نقصانات کی بنیاد پر عالمی امداد اور تکنیکی مدد کا حق رکھتا ہے۔ 2007 میں " بالی ایکشن پلان" جو کہ کوپ 13 کا حصہ تھا، سے لے کر، 2009 ، کوپن ہیگن ، جو کہ کوپ14کا بنیادی ڈھانچہ تھا، میں ترقی پذیر ممالک کو اپنے مسائل، کمزوریاں اور مصائب کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے ایک ڈھال مہیا کی گئی۔ یہ ایک سہارا تھا کہ وہ ہر ممکن حد تک ترقی یافتہ ممالک سے اپنے مسائل کے حل کے لئے امداد کی طلبی کی درخواست کرسکیں۔ اسی دوران ممالک کے اندر پہلی بار قومی سطح پر آب و ہوا کے بارے میں پالیسی اور ادارہ جاتی اصلاحات پر کام ہوا۔ حقیقی عمل درآمد یہ ہوا کہ ، کوپ 21 یعنی پیرس معاہدہ سامنے تو 2015 کو آیا لیکن اس کے لیے حقیقی اقدامات کوپ 21 میں لیے گئے اورپیرس معاہدے نے پاکستان کو بین الاقوامی نظام میں ایک راستہ فراہم کیا کہ ہر ملک نے اپنی قومی ممکنہ خدمات کی رپورٹ (NDCs) جمع کروانی تھیں۔ پاکستان نے 2021 میں اپنی NDC جمع کروائی جس میں 2030 تک 15 فیصد غیر مشروط اور 35 فیصد مشروط اخراج کم کرنے کا ہدف رکھا گیا۔ اس نے پاکستان کو بین الاقوامی سرمایہ کاروں، گرین کلائمیٹ فنڈ (GCF)، اور دیگر مالیاتی اداروں سے تعاون حاصل کرنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کی۔ پیرس معاہدہ پاکستان کے لیے نہ صرف اعشاریاتی اہداف کا ذریعہ تھا بلکہ موافقت، قدرتی وسائل کے تحفظ، جنگلات اور آبی گورننس(water Governance) جیسے شعبوں میں اصلاحات کا راستہ بھی کھل گیا۔ کوپ 26 ( گلاسکو، 2021) میں موافقت اور فنانس پر توجہ رہی۔ پاکستان کے لیے یہ دور اہم تھا کیونکہ اس وقت ملک میں شدید سیلاب، جنگلات کی تباہی اور پانی کی کمی ۔ عالمی سطح پر موافقت کے لیے فنڈنگ بڑھانے کے مطالبے نے پاکستان کو فائدہ پہنچایا اور ملک نے اپنے National Adaptation Plan کو فعال کیا اور " لیونگ انڈس انیشیٹوز" جیسے بڑے ماحولیاتی منصوبوں میں شمولیت اختیار کی۔ کوپ26 (گلاسگو، 2021) میں عالمی توجہ موافقت اور فنانس کی طرف راغب کی گئی تاہم پاکستان کے لیے سب سے تاریخی سنگ میل کوپ 27 (مصر، 2022) تھا۔ اس کانفرنس میں دنیا نے پہلی مرتبہ “Loss and Damage Fund” قائم کرنے کا فیصلہ کیا — ایک ایسا فنڈ جو موسمیاتی آفات سے متاثرہ ممالک کو براہ راست مالی مدد فراہم کرے گا۔ یہ فیصلہ بنیادی طور پر پاکستان اور دوسرے کمزور ممالک کی مسلسل جدوجہد کی وجہ سے ممکن ہوا۔ پاکستان کے انتہائی تباہ کن 2022 کے سیلاب، جس نے 33 ملین افراد کو متاثر کیا، نے عالمی برادری کو مجبور کیا کہ وہ "نقصان و نقصان" کے مسئلے کو صرف بحث نہیں بلکہ عملی فنڈنگ کی شکل میں تسلیم کرے۔ یہ پاکستان کی سفارتی کامیابیوں میں ایک بڑا سنگِ میل تھا۔ COP28 اور COP29 میں مزید پیش رفت ہوئی COP28 (دبئی) میں گلوبل اسٹاک ٹیک کے تحت یہ طے پایا کہ پاکستان جیسے ملکوں کے لیے فنانس، موافقت اور نقصان کے ازالے کے لیے عالمی سطح پر حمایت بڑھنی چاہیے۔ COP29 نے مزید ایک اہم سنگِ میل مقرر کیا: “New Collective Quantified Goal (NCQG)” یعنی ایک نیا عالمی مالیاتی ہدف جس کے تحت 2025 کے بعد کم از کم 300 بلین ڈالر سالانہ فراہم کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اگر یہ ہدف مؤثر طور پر نافذ ہوتا ہے تو پاکستان کو بڑے پیمانے پر موافقت، آفات کے بعد بحالی، پانی کے نظام کی بہتری، شہرکاری کی اصلاحات، اور قابل تجدید توانائی میں سرمایہ کاری کے مواقع ملیں گے۔
مقاصد اور اہداف میں کامیابی کی کوششیں
ان اجلاسکے دباؤ اور عالمی مباحثے نے پاکستان کو اندرونِ ملک اہم اقدامات لینے پر بھی مجبور کیا۔ پاکستان نے اپنی National Climate Change Policy (NCCP) کو اپڈیٹ کیا، NAP تیار کیا، Third National Communication جمع کرائی، اور بڑے صوبوں میں climate resilience منصوبے شروع کیے۔ ساتھ ہی، پاکستان نے Green Pakistan، Living Indus، Billion Tree Tsunami 10، Solar initiatives اور کاربن مارکیٹ پالیسی پر بھی کام کیا ، تاکہ عالمی مالیاتی نظام سے زیادہ مؤثر طریقے سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔البتہ مشکلات بھی کم نہیں تھیں۔
مسائل اور مشکلات
عالمی سطح پر امدادی اور اصلاحی رفتار سست ہے، Loss & Damage فنڈ ابھی پوری طرح فعال نہیں، کاربن مارکیٹس میں گرین واشنگ کا خطرہ ہے، اور پاکستان کی اپنی گورننس، ڈیٹا سسٹم اور مالیاتی شفافیت اب بھی کمزور ہیں۔ اگر پاکستان ان کمزوریوں پر قابو پا لے — خاص طور پر صوبائی ہم آہنگی، بین الاقوامی معیارات کے مطابق منصوبہ سازی اور بینک ایبل پراجیکٹس بنانے میں تو اگلے 5 سے 10 برس پاکستان کے لیے بہت اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ مجموعی طور پر COP1 سے COP29 تک کا سفر پاکستان کے لیے سفارت کاری، جدوجہد، پالیسی اصلاحات اور عالمی مالیاتی نظام میں رسائی کی جنگ رہا ہے۔ کوپ کے ہر بڑے ہدف نے پاکستان کے سامنے نئے دروازے کھولے کبھی قانونی اصولوں کی بنیاد پر کبھی عالمی اہداف ،کبھی موافقت کے مواقع اور کبھی آفاتی مسائل سے نمٹنا ۔ اگر یہ رفتار برقرار رہے تو پاکستان نہ صرف موسمیاتی خطرات کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہو سکتا ہے بلکہ مستقبل میں ایک علاقائی ماحولیاتی سر براہ کے طور پر بھی ابھر سکتا ہے۔ ماحولیاتی یا موسمیاتی تبدیلیاں اور ان سے پیدا ہونے والے مسائل سے نکلنے یا انہیں کم کرنے کے لیے جامع اقدامات اور حقیقی عملی رویوں کی ضرورت ہے، 10 نومبر سے جاری کوپ 30 ، 2025 کے اجلاس کو تفصیلاً سمجھنے کی ضرورت اس لیے بھی ہے کہ اگلے دس سالوں کی اہداف کو اب عملی جامہ پہنانے کے لیے صحیح معنیٰ میں وقت، مالی معاونت ، تکنیکی موافقت اور ماحولیاتی تعلیم کی اشد ضرورت ہے۔ نہ صرف عالمی سطح پر بلکہ قومی سطح پر بھی اہداف کا تعین کرنے کی ضرورت ہے، انفا اسٹریکچر اور تمام ماحولیاتی زرائع اور ان کے مسائل کو نئے سرے سے ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔
کوششوں کا یہ سفر صرف پاکستان ہی نہیں عالمی سطح پر بھی اتنا ہی چیلینجز سے بھرپور ہے، کوششیں ہی ہمیں اپنے مقاصد اور اہداف میں کامیابی دلا سکتی ہیں۔
(جاری ہے)