سفاری پارک میں موجود ڈائریکٹر سفاری پارک امجد زیدی کی تصدیق۔
ڈائریکٹر سفاری پارک امجد زیدی کے مطابق سونیا کی موت اچانک گزشتہ رات ہوئی، سونیا اور ملکہ 2009 سے سفاری پارک میں موجود تھیں، افریقی نسل کی چار ہتھنیوں کو 2009 میں تنزانیہ سے پاکستان منتقل کیا گیا تھا ہتھنی کی موت کی وجوہات کا پتہ پوسٹ مارٹم کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا، چڑیا گھر میں موجود نور جہاں نامی ہتھنی 22 اپریل 2023 میں مر گئی تھی نور جہاں کی ساتھی مدھو بالا کو سفاری پارک میں سونیا اور ملکہ کے پاس منتقل کیا گیا تھا.
ڈائریکٹرسفاری پارک امجد زیدی نے کہاہےکہ 2009 میں دو ہتھنیاں سفاری پارک لائی گئی تھیں گذشتہ ماہ مدھو بالا کو چڑیا گھر سے سفاری پارک منتقل کیا گیا
تینیوں ہتھنیاں مزے سے سفاری پارک میں رہ رہی تھیں
آج اچانک سونیا کا نتقال ہو گیا
ابتدائی طور پر ڈاکٹر کے مطابق موت کی وجہ ہارٹ فیل ہونا ہے
اصل حقائق پوسٹ مارٹم کے بوعد سامنے آئیں گے
سونیا کی عمر 17 سے 18 برس تھی
سونیا صحت مند تھی اسے کوئی بیماری نہیں تھی
ہتھنیوں کی خوراک پر کوئی کمپرومائز نہیں کرتے ہیں
گذشتہ شب دس بجے سونو نے گنا اور دیگر پھل کھائے تھے
سفاری پارک کے ڈاکٹر اور دیگر عملہ صبح سے متحرک ہے
سونیا کی موت کے بعد مدھو بالا اور ملکہ بھی افسردہ
دونوں ہتھنیوں نے کیچ سے باہر نکلنے سے انکار کر دیا
دونوں ہتھنیوں نے کھانا پینا بھی چھوڑا ہوا ہے
دوسری جانب مئیر کراچی مرتضی وہاب نے سفاری پارک میں ہتھنی کے اچانک انتقال کی تحقیقات کا حکم دے دیا اپنے جاری بیان میں کہاہےکہ سفاری پارک میں ہتھنی سونیا کے مر جانے کا سن کر افسوس ہوا ،
ہتھنی کے انتقال میں اگر کسی قسم کی غفلت پائی گئی تو افسران و عملے کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی،
ہتھنی کے انتقال کا ہر پہلو سے جائزہ لیا جائے گا،
ہتھنی کا مکمل پوسٹ مارٹم کرایا جائے گا،
تمام وجوہات سے عوام اور میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا،