مشعل پاکستان نے ریفارمز رپورٹ شائع کر دی
اسلام آباد: مشعل پاکستان نے وفاقی اداروں میں اصلاحات پر مبنی ریفارمز رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ سال 2025 میں 135 سے زائد وفاقی اداروں میں 600 سے زائد اصلاحاتی اقدامات کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان ڈیجیٹل نیشن ایکٹ 2025 نافذ کیا گیا، جس کے تحت ڈیجیٹل گورننس کے لیے نئی اتھارٹی اور کمیشن قائم کیے گئے۔ الیکٹرانک جرائم ترمیمی ایکٹ کے ذریعے ڈیجیٹل احتساب اور آن لائن سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنایا گیا۔
اسکل ٹیک پاکستان پروگرام کے تحت ہزاروں نوجوانوں کو عملی تربیت اور پیشہ ورانہ سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے، جبکہ 20 ای روزگار مراکز قائم کیے گئے۔ نیشنل آئی سی ٹی پروگرام کے ذریعے گریجویٹس کو صنعت سے جوڑا گیا۔ مزید برآں، گوگل کیریئر سرٹیفکیٹ کے تحت 7 ہزار سے زائد سرکاری افسران کی جدید ڈیجیٹل تربیت مکمل کی گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہری پور میں کروم بُک اسمبلی لائن فعال ہو گئی ہے، جس کی سالانہ پیداواری صلاحیت 5 لاکھ یونٹس ہے۔ گیمنگ اور اینی میشن کے قومی مرکز کے لیے 2.52 ارب روپے کے بڑے منصوبے کا آغاز بھی کیا گیا۔
دفاعی پنشن نظام کو ڈیجیٹلائز کر کے 2 لاکھ 30 ہزار سے زائد ریکارڈز ڈائریکٹ کریڈٹ سسٹم پر منتقل کیے گئے۔ توانائی کے شعبے میں 1.4 کھرب روپے کی طویل مدتی بچت اور درآمدات میں ایک ارب ڈالر کی کمی حاصل ہوئی۔ گیس اور تیل کے شعبے میں 5 ارب ڈالر جبکہ ریکوڈک منصوبے میں 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔
مزید بتایا گیا کہ 15 ہزار سے زائد آئل ٹینکرز کو جی پی ایس سے منسلک کیا گیا اور دھماکہ خیز مواد کے لیے ملک گیر ٹریکنگ نظام نافذ کیا گیا۔ سرکاری خریداری کے لیے ای پیڈز لازمی قرار دیے گئے اور 1408 ارب روپے کے معاہدے الیکٹرانک نظام کے تحت مکمل کیے گئے۔
ٹیکس چوری روکنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال، ڈیجیٹل انوائسنگ اور POS نظام نافذ کیا گیا۔ پی آئی اے کی نجکاری کی براہ راست نشریات کی گئیں اور وزارت نجکاری میں ای آفس اور ڈیجیٹل ریکارڈ روم قائم کیا گیا۔
آڈیٹر جنرل آفس میں انفارمیشن سسٹم فعال کر دیا گیا ہے، جس سے ڈیٹا سینٹر کے ذریعے آڈٹ شفافیت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔