محکمہ صحت سندھ کا خواجہ سراؤں کی ویکسینیشن کا فیصلہ


محکمہ صحت سندھ کا خواجہ سراؤں کی ویکسینیشن کا فیصلہ

کراچی، نزاہت خان

کراچی کی خواجہ سرا کمیونٹی نے حکومت سے ویکسی نیشن سینٹرز پر علیحدہ کاونٹر قائم کرنے کا مطالبہ کردیا۔ ہچکچاہٹ کے باعث سینکڑوں خواجہ سرا ویکسین لگوانے سے محروم ہیں۔  وہ ڈاکٹروں کی جانب مناسب آگاہی فراہم نا کیے جانے کا شکوہ بھی  کرتے ہیں۔


کورونا کی ویکسینیشن کس سینٹر میں کرائیں،، کونسی ویکسنیشن بہتر ہے؟؟ کس کے سائیڈ افیکٹس کم ہیں؟

کراچی کی خواجہ سرا کمیونٹی پریشان ہے۔



ویکسنیشن سینٹر پر قطاروں میں کھڑے خواجہ سراؤں کو طنز اور طعنوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے،، سینکڑوں خواجہ سرا سینٹرز سے مایوس لوٹ رہے ہیں۔


خواجہ سراؤں نے حکومت سے ویکسنیشن سینٹرز پر مردوں اور عورتوں کی طرح اپنےلئےعلیحدہ کاؤنٹرز قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔کہتے ہیں  ایچ آئی وی اور دیگر بیماریوں میں مبتلا خواجہ سراؤں کے لیے ڈاکٹرز بھی  تعینات کئے  جائیں۔ ہے۔


جینڈر انٹرایکٹو الائنس کے سروے کے مطابق شہر میں خواجہ سراؤں کی تعداد 18 ہزار سے زائد ہے۔ شناختی کارڈ کے مسائل سے دوچار خواجہ سرا بھی اب تک ویکسین کی فراہمی سے محروم ہیں۔ 


محکمہ صحت سندھ  نےخواجہ سراؤں کی ویکسینیشن کا فیصلہ کرلیاہے


جس میںخواجہ سراؤں کی ویکسینیشن کے لیے انہیں شناختی کارڈ کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی۔

خواجہ سراؤں کو سنگل ڈوز ویکسین لگائی جائے گی، خواجہ سراؤں کے گھروں کے قریب ویکسینیشن کیمپ لگائیں جائیں گے، خواجہ سراؤں کے گھروں میں جا کر انہیں آگاہی دی جائے گی، خواجہ سراؤں کے ذریعے کورونا پھیلنے کے امکانات زیادہ ہیں،واضح رہے کہ دوہزار سترہ کی مردم شماری کے مطابق خواجہ سراؤں کی تعداد 10 ہزار 418 ہے ، عام اندازے کے مطابق سندھ بھر میں خواجہ سراؤں کی تعداد 5 لاکھ ہے