جامشورو: کپڑے بیچنے والی خاتون صبرین کے اغوا، زیادتی اور قتل پر وومینز ایکشن فورم کا شدید احتجاج
جامشورو کے پہاڑی علاقے میں کپڑے فروخت کرنے کے لیے جانے والی 25 سالہ صبرین دختر نظام پٹھان، جو خیبر پختونخوا کی رہائشی اور تین بچوں کی ماں تھیں، دس روز قبل پراسرار طور پر لاپتہ ہو گئیں۔ لواحقین نے کوسا برادری کے افراد پر اغوا کا الزام عائد کرتے ہوئے جامشورو تھانے میں رپورٹ درج کرائی، مگر پولیس نے معاملے کی حساسیت کے باوجود بروقت اور مؤثر کارروائی نہ کی۔
افسوسناک طور پر خاتون کی تشدد زدہ لاش برآمد ہوئی، جسے چہرے اور سر پر پتھر مار کر قتل کیا گیا اور شناخت مٹانے کے لیے چہرہ مسخ کر دیا گیا۔ پولیس اور اہلِ خانہ نے کپڑوں کے ذریعے مقتولہ کی شناخت کی، جبکہ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
وومینز ایکشن فورم (WAF) نے اس اندوہناک واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی مجرمانہ لاپرواہی اور سنگین غفلت کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ تنظیم نے کہا کہ خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات پر خاموشی اور تاخیر انصاف سے انکار کے مترادف ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔
مطالبات
وومینز ایکشن فورم نے حکومت اور پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ:
1. ملزمان کو فوری گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
2. ڈی آئی جی اور آئی جی اس کیس میں غفلت برتنے والے اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی کریں۔
3. متاثرہ خاندان کو مکمل تحفظ، انصاف اور معاونت فراہم کی جائے۔