کراچی-سندھ تنازعہ: تاریخی، آئینی، فکری اور سوشل میڈیا کی ایک جامع جائزہ

عرفان علی عرفان علی

 کراچی-سندھ تنازعہ: تاریخی، آئینی، فکری اور سوشل میڈیا کی ایک جامع جائزہ

کراچی کو وفاق یا الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ آئینی طور پر ممکن نہیں، تاریخی طور پر سندھ کا لازمی حصہ ہے، اور یہ تنازعہ نسلی تقسیم کو بڑھاوا دیتا ہے جس سے سب پاکستانیوں کو نقصان ہوتا ہے۔

- سندھ اسمبلی نے 21 فروری 2026 کو متفقہ طور پر قرارداد منظور کی کہ کراچی سندھ کا اٹوٹ حصہ ہے اور اس کی علیحدگی قومی اتحاد کے خلاف سازش ہے۔

- آئین کے آرٹیکل 239 کے تحت صوبائی حدود تبدیل کرنے کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی منظوری لازمی ہے، جو فی الحال ناممکن ہے۔

- X (سابقہ ٹوئٹر) پر سندھی، اردو بولنے والے (مہاجر) اور دیگر پاکستانیوں کی آراء مخلوط ہیں: شہری مسائل کو تسلیم کیا جاتا ہے مگر علیحدگی کو تقسیم کی سازش سمجھا جاتا ہے۔

- تاریخی حوالے (کولاچی سے لے کر 1943 کی پاکستان قرارداد تک) کراچی کو سندھ کی دھرتی سے جوڑتے ہیں؛ مہاجر آبادی شہری مراکز میں زیادہ ہے مگر صوبہ بھر میں سندھی اکثریت ہے۔

- یہ بحث فاصلے بڑھاتی ہے، فائدہ صرف نسلی سیاستدانوں کو ہوتا ہے جبکہ اصل مسائل (حکومت، کرپشن، شہری سہولیات) پیچھے رہ جاتے ہیں۔


قانونی اور آئینی پہلو

پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 239 واضح کرتا ہے کہ صوبائی حدود میں کوئی تبدیلی متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ سندھ اسمبلی کی قرارداد میں اسی نکتے کا حوالہ دیا گیا ہے۔ ایم کیو ایم پی کا مطالبہ (وفاقی علاقہ یا معاشی دارالحکومت) آرٹیکل 148-149 پر مبنی ہے مگر یہ بھی صوبائی رضامندی کے بغیر نافذ نہیں ہو سکتا۔ 1994 اور 2019 میں بھی ایسی ہی قراردادیں منظور ہو چکی ہیں۔


تاریخی سیاق

کراچی (پرانا نام کولاچی) سندھ کی قدیم بندرگاہ ہے جو تالپور دور سے سندھ کا حصہ رہا۔ 1947 میں پاکستان کا دارالحکومت بننے کے باوجود یہ جغرافیائی، ثقافتی اور جذباتی طور پر سندھ سے جڑا رہا۔ 1948 میں عارضی طور پر وفاقی علاقہ بنایا گیا مگر 1970 میں سندھ کی بحالی کے ساتھ واپس آیا۔ سندھ اسمبلی نے 1943 میں پاکستان قرارداد کراچی میں ہی منظور کی تھی۔


X پر بحث کا جائزہ

سندھی اکاؤنٹس (جیسے سندھی قوم پرست) کراچی کو کولاچی قرار دے کر علیحدگی کی مخالفت کرتے ہیں اور ایک یونٹ پالیسی کی مزاحمت کا حوالہ دیتے ہیں۔ اردو بولنے والے صارفین شہری مسائل (کوٹہ، گورننس) پر زور دیتے ہیں۔ دیگر پاکستانی (پنجابی، پٹھان وغیرہ) زیادہ صوبوں کی حمایت کرتے ہیں مگر سندھ کی تقسیم کو خطرہ سمجھتے ہیں۔ بحث اکثر جذباتی ہو جاتی ہے۔


حالیہ دنوں (فروری 2026) میں کراچی کو سندھ سے الگ کر کے وفاقی علاقہ یا الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ ایک بار پھر شدت سے اٹھا ہے۔ یہ مطالبہ بنیادی طور پر متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (MQM-P) کی طرف سے سامنے آیا، جو سندھ حکومت (پیپلز پارٹی) کی گورننس ناکامیوں—خاص طور پر گل پلازہ فائر جیسی واقعات—کو بنیاد بنا کر کراچی کو معاشی دارالحکومت قرار دے کر وفاقی کنٹرول میں دینے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اس کے جواب میں سندھ اسمبلی نے 21 فروری 2026 کو چیف منسٹر مراد علی شاہ کی طرف سے پیش کردہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کی جس میں کراچی کو سندھ کا "اٹوٹ اور ناقابل تقسیم" حصہ قرار دیا گیا اور کسی بھی تقسیم کی کوشش کو "قومی اتحاد اور وفاقی ڈھانچے کے خلاف سازش" قرار دیا گیا۔ یہ قرارداد نہ صرف حالیہ مطالبے کا جواب تھی بلکہ 1994 اور 2019 کی سابقہ قراردادیں بھی اس کی یاد دہانی تھی۔  


آئینی طور پر یہ مطالبہ ناقابل عمل ہے۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل 239(4) کے تحت صوبائی حدود میں تبدیلی کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت لازمی ہے۔ سندھ اسمبلی، جو فی الحال پی پی پی کی اکثریت رکھتی ہے، اس کی منظوری نہیں دے گی۔ ایم کیو ایم پی نے اس قرارداد کو "غیر آئینی" قرار دیا اور آرٹیکل 239(4) اور 140-A کا حوالہ دے کر نئے صوبوں کی تشکیل کا حق مانگا، مگر ماہرین اور سندھ حکومت کا موقف ہے کہ یہ آرٹیکل صوبائی رضامندی کے بغیر लागو نہیں ہوتا۔ جب 1948 میں کراچی کو عارضی طور پر وفاقی کیپیٹل ٹیریٹری بنایا گیا تو آئین موجود نہیں تھا؛ آج آئینی وضاحت واضح ہے۔  


تاریخی حوالے اس مطالبے کی کمزوری کو مزید نمایاں کرتے ہیں۔ کراچی کا قدیم نام کولاچی ہے جو سندھ کی دھرتی سے نکلا ایک ماہی گیر گاؤں تھا جو 18ویں صدی میں تالپور میروں کے دور میں بندرگاہ بنا۔ برطانوی دور میں یہ سندھ کا حصہ رہا اور 1936 میں بمبئی پریذیڈنسی سے الگ ہونے والے سندھ صوبے کا دارالحکومت بنا۔ 1947 میں پاکستان بننے پر کراچی دارالحکومت بنا مگر جغرافیائی طور پر سندھ ہی کا حصہ رہا۔ 1948-1961 کے درمیان وفاقی انتظام کے باوجود 1970 میں سندھ کی بحالی کے ساتھ مکمل طور پر واپس آیا۔ سندھ اسمبلی نے خود 3 مارچ 1943 کو کراچی میں پاکستان قرارداد منظور کی تھی—مہاجر آبادی کے آنے سے چار سال پہلے۔ سندھی ادب اور دانشوروں کی روایات (جیسے شاہ عبداللطیف بھٹائی کے رسالو میں علاقائی حوالے، یا جدید سندھی ادب کی تاریخ میں 1949 کی علیحدگی کو "سندھ کی مرضی کے خلاف" قرار دینا) کراچی کو سندھ کی ثقافتی، معاشی اور جذباتی شناخت کا حصہ بتاتی ہیں۔ سندھی دانشور جیسے شیخ عزیز کی "History of Sindhi Literature" میں واضح ہے کہ کراچی کی علیحدگی 1949 میں سندھ کی مرضی کے بغیر ہوئی تھی اور اس نے سندھی شناخت کو چیلنج کیا۔  


سندھ کی پوسٹس اور دانشوروں کے حوالے خاص طور پر اہم ہیں۔ X پر سندھی اکاؤنٹس (جیسے @Rukhsnahalepoto اور دیگر) کراچی کو "سندھ کی دھرتی" قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں "تم کراچی کو کیسے توڑو گے؟ یہ کوئی دھاگے کی زنجیر نہیں ہے۔ یہ سندھ ہماری دھرتی ہے۔" تاریخی طور پر ایک یونٹ پالیسی (1955) کی مزاحمت اور 1970 کی بحالی کو سندھ کی قومی بقا کی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ادبی طور پر سندھی ادب کی تاریخ (جیسے امداد حسین اور دیگر) سندھ کی قدیم تہذیب (موہنجوداڑو) سے کراچی کو جوڑتی ہے۔ یہ پوسٹس تنازعہ کو صرف سیاسی نہیں بلکہ ثقافتی اور تاریخی سطح پر دیکھتی ہیں کہ علیحدگی سندھ کی شناخت کو کمزور کرے گی۔  


X (ٹوئٹر) پر بحث سندھی، اردو (مہاجر) اور دیگر پاکستانیوں کے ملے جلے رجحانات کو خوبصورت طریقے سے ظاہر کرتی ہے۔ سندھی صارفین علیحدگی کو "نسلی سازش" کہتے ہیں جبکہ اردو بولنے والے (جیسے @worqas، @Saim_Riz) شہری مسائل—کوٹہ سسٹم، جعلی ڈومیسائل، گورننس ناکامی—پر زور دیتے ہیں اور کہتے ہیں "کراچی کو الگ صوبہ بنانا ضروری ہے تاکہ پی پی پی اسے ذاتی خزانہ نہ سمجھے۔" پنجابی اور دیگر صارفین (جیسے @faisalrafi) زیادہ صوبوں کی حمایت کرتے ہیں مگر سندھ کی تقسیم کو خطرہ سمجھتے ہیں۔ ایک متوازن پوسٹ (@Blahhhhhh34) کہتی ہے کہ مسئلہ نسلی نہیں بلکہ انتظامی ہے: "مہاجروں نے 1947 سے قربانیاں دیں مگر کراچی سندھ کا حصہ ہے؛ لڑائی نظام کے خلاف ہونی چاہیے۔" یہ بحث سوچ اور نظریہ کو اجاگر کرتی ہے کہ ایک طرف شہری خودمختاری کا مطالبہ ہے تو دوسری طرف قومی وفاقی ڈھانچے کی حفاظت۔  


یہ تنازعہ دوریاں پھیلاتا ہے اور فائدہ کس کا؟ سیاسی طور پر پی پی پی سندھی قوم پرستی کا کارڈ کھیل کر دیہی سندھ میں ووٹ حاصل کرتی ہے جبکہ ایم کیو ایم پی کراچی کے اردو بولنے والوں میں اپنی جڑیں مضبوط کرتی ہے۔ دونوں فریق اصل مسائل (شہری انفراسٹرکچر، صفائی، قانون و نظم) سے توجہ ہٹا دیتے ہیں۔ طویل مدت میں قومی اتحاد کمزور ہوتا ہے، نسلی تقسیم بڑھتی ہے، اور بیرونی عناصر (اگر کوئی) فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ مہاجر آبادی (1947 کے بعد آنے والے) صوبہ بھر میں اقلیت ہے (سندھی اکثریت ~60-70%) مگر کراچی میں اکثریت ہے۔ ان کا مطالبہ شہری آبادی کی معاشی شراکت (کراچی پاکستان کا معاشی انجن) پر مبنی ہے مگر آئینی طور پر صوبائی اسمبلی پورے سندھ کی نمائندگی کرتی ہے۔ تاریخی طور پر مہاجروں نے پاکستان کی بنیاد میں کردار ادا کیا مگر علیحدگی کا مطالبہ سندھ کی پوری آبادی (سندھی، اقلیتوں، دیگر) کو نظر انداز کرتا ہے۔  


 مختلف گروہوں کے رجحانات کا خلاصہ :


اس تنازعہ کا فکری جائزہ یہ بتاتا ہے کہ پاکستان کی وفاقی ڈھانچہ نسلی تنوع کو تسلیم کرتا ہے مگر علیحدگی کی بجائے مضبوط لوکل گورنمنٹ، منصفانہ وسائل کی تقسیم اور میرٹ پر مبنی پالیسیاں ہی مستقل حل ہیں۔ سندھی ادب اور تاریخ کی روشنی میں کراچی سندھ کی شناخت کا حصہ ہے جبکہ مہاجروں کی شراکت کو بھی تسلیم کیا جانا چاہیے۔ تنازعہ دوریاں بڑھانے کی بجائے قومی مکالمہ ضروری ہے تاکہ کراچی پاکستان کا معاشی قلب رہے اور سندھ کی وحدت برقرار رہے۔