متحدہ قومی مومنٹ اور مسلم لیگ ن کے درمیان سیاسی اتحاد کی تاریخ پرانی ہے ۔

عمران عمران

متحدہ قومی مومنٹ اور مسلم لیگ ن کے درمیان سیاسی اتحاد کی تاریخ پرانی ہے ۔

متحدہ قومی مومنٹ اور مسلم لیگ ن کے درمیان سیاسی اتحاد کی تاریخ پرانی ہے ۔

ایم کیو ایم تین مختلف ادوار میں مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت کا حصہ رہ چکی ہے ۔


 یہ اتحاد کب اور کیسے بنے اور کیوں ختم ہو گئے ۔


انیس سو اٹھاسی میں ہونے والے عام انتخابات میں ایم کیو ایم کراچی و حیدرآباد سمیت سندھ کے شہری علاقوں کی

25 اور قومی اسمبلی کی 13 نشستوں پر فاتح رہی اور ملک کی تیسری بڑی سیاسی جماعت بن کر اُبھری ۔



 انیس سو نواسی میں ایم کیو ایم اور مسلم لیگ ن کا پہلا سیاسی اتحاد آئی جی آئی کی تشکیل کی وقت ہوا ۔


 ایم کیو ایم نے پیپلز پارٹی سے ہونے وال اتحاد ختم کر کے آئی جے آئی میں شامل ہوگئی اور وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے خلاف قومی اسمبلی میں پیش کی جانے والی عدم اعتماد کی تحریک کی حامی ہوگئی

چھ اگست 1990 کوبے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت کی برطرف کی گئی اور  اکتوبر 1990 کو عام انتخابات کے نتیجے میں آئی جے آئی کی حکومت قائم ہوئی ۔

ایم کیو ایم نے قومی اسمبلی کی 15 اور صوبائی اسمبلی کی 28 نشستیں حاصل کیں اور مسلم لیگ ن سے پہلا باضابطہ اتحاد کیا جس کے نتیجے میں نواز شریف پہلی بار ملک کے وزیر اعظم بنے اور جام صادق کو وزیر اعلیٰ سندھ بنا دیا گیا ۔


 لیکن یہ اتحاد نومبر 1990 سے جون 1992 تک ہی چل سکا

تین فروری انیس سو ستانوے میں ہونے والے عام انتخابات کے بعد ایم کیو ایم اور مسلم لیگ ن کے درمیان دوسری بار اتحاد ہوا ۔


 مرکز میں نواز شریف دوسری بار وزیر اعظم منتخب ہوئے تو سندھ میں لیاقت جتوئی ایم کیو ایم کی مدد سے سندھ کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے ۔


 یہ اتحاد اس وقت ختم ہوا ۔ جب سترہ اکتوبر  انیس سو اٹھانوے میں سابق گورنر حکیم محمد سعید کو قتل کردیا گیا اور وزیر اعظم نواز شریف نے اپنی ہی اتحادی جماعت ایم کیو ایم کے خلاف پریس کانفرنس کر کے حکیم سعید قتل کا الزام ایم کیو ایم پر ہی عائد کر دیا

 

پانچ جون دو ہزار تیرہ میں نواز شریف تیسری بار ملک کے وزیر اعظم منتخب ہوئے ۔

ایم کیو ایم نے قومی اسمبلی کی کل 25 اور سندھ اسمبلی کی 51 نشستیں حاصل کیں اور وفاق میں ن لیگ کا ساتھ دیا لیکن کراچی میں جاری بد امنی کے معاملے پر ایم کیو ایم اور ن لیگ کے درمیان اختلافات عروج پر رہے ۔

 ایم کیو ایم اور ن لیگ کے درمیان یہ اتحاد 22 اگست 2016 کو کراچی پریس کے سامنے بانی ایم کیو ایم کی متنازعہ تقریر کے بعد اپنے منطقی انجام کو پہنچا