18مئی کودنیا بھر میں بہت سارے واقعات ہوئے ہوں گے، کہیں غم اور خوشیوں کی داستانیں رقم ہوئی ہوں گے ۔۔۔۔مگرہمارے لئے وہ لمحے وہ اداسی کی کیفیت آج بھی برقرار ہے،جس دن نے ہمارے ایک شگفتہ مزاج،چاروں طرف مسکراہٹیں بکھیرنے والے دلکش انداز کے حامل کمپئیر،شاعر اور ریڈیوپروڈیوسر میر محمد الفت کو جسمانی طور پر ہم سے چھین لیا تھا،آج برسی کی مناسبت سے میرصاحب کو یاد کرتے ہوئے دوستوں نے
براہوئی ادبی سوسائٹی کے زیر اہتمام ایک نشست کا اہتمام کیا،ہم نے جو اظہارِ خیال کیا وہ ملاحظہ ہو
رات کا دوسرا پہر تھا ہم دھڑکتے دل کے ساتھ ہسپتال کی جانب رواں تھے سبھی دکُھی اور پریشان تھے،امکانی خدشوں نے گھیر رکھا تھا،ایک دوسرے کادھیان بانٹنے کی کوشش کررہے تھے مگر ذہن ایک ہی بات پر مرکوز تھا،
جانے الفت کس وارڈ میں کس حال میں ہوگا،۔۔۔۔؟
ہمیں پہچانے گا یا نہیں،شائد ہوش میں نہ ہو۔۔۔۔؟
بہرحال گاڑی پارک کرکے ایمرجنسی وارڈ پہنچے،سامنے بیڈ پر مشینوں میں قید اور ماسک لگائے آبدیدہ نگاہوں کے ساتھ سفید ریش،نکھرے نکھرے ملبوس کے ساتھ میرمحمد الفت جیسے ہمارا انتظارکر رہا تھا
دوستوں کو دیکھ کرکِھل اٹھے ،بیڈ سے اٹھنے کی کوشش کی مگر ہم نے آرام کرنے کو کہا مجھے اور وحیدزہیر کو بیڈ پر بیٹھنے کو کہا ہم نے شکریہ ادا کیا اسے تسلی دی،پھر آنے کا وعدہ کرکے نکل آئے،ڈاکٹر نے تسلی دی اور کہا ریکور کررہے ہیں،بیٹے جیلانی نے کہا آپ لوگوں کودیکھ کر ابا بیدار ہوگئے ہیں،۔۔۔۔۔ہم اُن کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے رخصت ہوئے،
اگلے دن کا پہلا پیغام الفت کی رخصتی کا پیغام تھا،وہ جسمانی طور پر ہم سے جُدا ہوگئے،دکھوں اور آنسوؤں کے ساتھ سیکڑوں افراد نے انہیں سپردِخاک کیا،مغفرت کی دعا کی،۔۔۔۔۔۔فاتحہ خوانی ہورہی ہے۔۔۔۔!!!
مگرمجھے یقین نہیں آرہا میرادل نہیں مان رہا۔۔۔۔زندگی کی تلخیوں کو مات دیتاوہ ہنستا مسکراتا چہرا چاروں طرف قہقہے بکھیرنے والا زندگی سے بھرپور،یاروں کا یار ،چھوٹے بڑے سبھی کے ساتھ شفقت اور محبت سے پیش آنے والاخوب صورت فنکار ہمیں چھوڑ کر جاسکتا ہے،نہیں قطعی نہیں۔۔۔۔وہ زندہ ہیں اور تاحیات زندہ رہیں گے،اپنی شاندار شخصیحت،دل کو موہ لینے والی کمپیرنگ،شاعری اوربراہوئی ادب کے فروغ کے لئے اقدامات کے حوالے سے ریڈیو ،ٹی وی اور ادبی اداروں میں اُن کی خدمات بے مثال ہیں،
ہم ریڈیو اسٹیشن کے براہوئی سیکشن میں نامور ڈرامہ نگار اور مزاح نگارغلام نبی راہی،غلام حیدر حسرت،ماہرلسانیات یوسف ثانی اور ہرلمحہ تروتازہ خوب صورت آواز و انداز کے مالک پُرکشش شخصیحت کے مالک میرمحمد الفت کے ساتھ بیٹھ کر اپنے شوق اور دلچسپی کو بڑھانے میں مگن ہوتے،کبھی علمی موضوع چھڑتا تو کبھی شعرو سُخن کی باری آتی ،ڈرامہ نویسی کے لئے راہی صاحب کی طرف متوجہ ہوتے
حسرت صاحب ایک خاص انداز سے براہوئی ادب کے لئے اپنے خدمات کا ذکر کرتے اور ٹیپیں اٹھا کر اسٹوڈیو نکل پڑتے ،یوسف ثانی چہرے پر مسکراہٹ سجائے کوئی نہ کوئی جملہ ترتیب دے کر ہمیں آزمائش میں ڈال جاتے،اس دوران الفت کی شگفتگی ہمیں تازہ تر کرتی،
یہ سلسلہ برسوں پرمحیط رہا اس دوران براہوئی زبان کی کہیں نامور شاعر اور ادیب متعارف ہوئے اور ان مہربانوں کے ذریعے کاررواں بنتا گیا
الفت سے عقیدت کا سفر دوستی میں کب تبدیل ہوا مجھے یاد نہیں لئکن اتنا یاد ہے الفت کو یار بنانا اور یاری نبھانے کا ہنر آتا تھا،۔۔۔۔۔سرکی کلاں سے ریڈیو اور شام کو ٹی وی کا پروگرام درمیان میں یاروں کی محفل اور باقی وقت بچوں کی رفاقت،اتنی مصروفیت کے باوجود بچوں کی تربیت جس میں وہ بڑی حدتک کامیاب رہے،گل و بلبل کی شاعری کی پروفیسر عظیم جان کی قربت میں ریڈیو کے لئے مقبول گیت لکھے ،ریڈیو کے پروگراموں کے ذریعے ان کے تعلیمی اخراجات کے لئے براہوئی سیکشن کا تاریخی کردار رہا ہے اس میں الفت صاحب متحرک رہے ہیں ریڈیو سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی بجٹ اور فنڈز کی عدم دستیابی کے باوجودباقاعدگی سے پروگرام کرتے رہے،ایک بڑے حادثے کے مہینوں تک ہسپتالوں میں پڑے رہنے کے بعد بھی اللہ کی مہربانی سے دوبارہ میدانِ عمل میں آئے وہی شگفتہ مزاجی وہی طبیعت کی تازگی کے ساتھ محفلیں سجاتے رہے،۔۔۔۔۔لیکن اندر کے زخموں نے انہیں دواوں کا ساتھی بنا دیا کبھی کبھی راستہ بھولنے لگے تو کبھی کہیں دنوں تک گھر کی چاردیواری میں خود کو مصروف رکھا،وہ ایک ویب چینل کا خواب دیکھنے لگے بڑے آئیڈیاز کے ساتھ اپنی زبان ،ادب اور ادبی شخصیحات کو بین الاقوامی سطع پر لانے کی کوششوں میں مگن رہے،مگر اب بھولنے کی عادت اور طبیعت کے الجھاوئے نے رکاوٹیں ڈالنی شروع کردی،۔۔۔۔۔۔یوں ہمارا پرعزم اور جذبوں اور جنون سے مالامال دوست 18مئی کی صبح سفرِ آخرت پر روانہ ہوا۔۔۔۔۔۔،اور ہمارے لئے اپنا عزم حوصلہ اور جنون چھوڑ گیا،
آج تم کل ہماری باری ہے
موت سے کس کو رستگاری ہے