ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کے ہمراہ اہم پریس کانفرنس
ڈی جی آئی ایس پی آر منگل کے روز جعفر ایکسپریس پر ہونے والے حملے اور مسافروں کی بازیابی کے لیے کیے جانے والے آپریشن سے متعلق آگاہ کیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفرازبگٹی نے کہاکہ جعفرایکسپریس پرحملے کے واقعے کی مذمت کرتے ہیں
سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا بہادری سے مقابلہ کیا،
سیکیورٹی فورسزنے یرغمالیوں کو بازیاب کرایا،
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ 11مارچ کوایک بجےبولان کےقریب ریلوےٹریک کودھماکےسے اڑایاگیا،
دشوار گزار پہاڑی علاقے میں ریلوے ٹریک کودھماکہ خیزمواد سے اڑایاگیا،
دہشت گردوں نےجعفر ایکسپریس کو روک کرمسافروں کویرغمال بنایا اور
دہشت گرد اپنےسہولتکاروں سےرابطے میں تھے،لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری بتایاکہ
دہشت گردوں نے یرغمالیوں کو ٹرین سے اتار کر زمین پر اکھٹا کیا،
چیک پوسٹ پر حملے میں ایف سی کے 3 جوان شہید ہوئے ،
دہشت گرد مختلف گروپس میں تھے اور بلندیوں پر بیٹھے تھے اور
بھارتی میڈیا نے جعفر ایکسپریس پر حملے کوبہت کوریج دی ،لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے مزید بتایاکہ دہشت گردوں نے مسافروں کو مختلف ٹولیوں کی شکل میں بٹھایا ، اے آئی تصاویراور دہشت گرد گروپ کی دی گئی ویڈیو کےذریعے بیانیہ بنایاگیا ، ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہناتھاکہ دہشت گردوں کی سپورٹ سے انفارمیشن وار فیئر بھی چل رہی تھی ، انفارمیشن وار فیئر کو بھارتی میڈیا لیڈ کر رہا تھا ، بھارتی میڈیا ایک عالمی دہشت گرد گروپ کی شیئر کردہ ویڈیو چلا رہا تھا ،
بھارتی میڈیا دہشت گردوں کی شیئر کردہ ویڈیو کےذریعے پروپیگنڈا کر رہا تھا ، شام کے وقت دہشت گردوں نے یرغمالیوں کے ایک گروپ کو چھوڑا ،
کچھ یرغمالیوں کو چھوڑنے کی وجہ بڑی تعداد کو ہینڈل نہ کرسکنا بھی تھا، کچھ یرغمالیوں کو چھوڑ کر انسانی ہمدرد بننے کی جھوٹی کوشش کی گئی ،
مصنوعی ذہانت کا سہارالیکر سوشل میڈیا پر جھوٹی وڈیوز بنائی گئیں
دہشتگردوں نے منظم انداز میں کارروائی کی ،ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بتایاکہ جعفرایکسپریس حملے سے پہلے دہشتگردوں نے ایف سی چیک پوسٹ پر حملہ کیا،
12مارچ کی صبح پاک آرمی نے منصوبہ بندی سے دہشتگردوں کو انگیج کیا، دہشتگردی کے لیے انتہائی دشوار گزار راستے کا انتخاب کیا گیا،
دہشتگرد افغانستان میں اپنے ہینڈلرز سے مسلسل رابطے میں تھے،
خود کش بمباروں کو یرغمالیوں کے پاس چھوڑا گیا ،
کچھ دہشت گردپہاڑوں کی طرف بھاگ گئے،
12مارچ کی صبح فائرنگ کے دوران موقع پا کر کچھ یرغمالی بھاگے
مختلف سمت میں بھاگنے والے یرغمالیوں کو ایف سی نے ریسکیو کیا ، ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ بھاگنے والے یرغمالیوں پر دہشت گردوں نے فائرنگ بھی کی ، کچھ یرغمالی دہشت گردوں کی فائرنگ سے زخمی بھی ہو ئے ،
پورے آپریشن میں کسی یرغمالی مسافر کو نقصان نہیں پہنچا ، ا
دہشتگرد دہشت برقرار رکھنے کے لیے یرغمال مسافروں کو مارتے رہے،
ضرار کے جوانوں نے آپریشن ٹرین کے انجن سے شروع کیا ،
ضرار کے جوانوں نے بوگی بائی بوگی کلیئر کیا ،
آپریشن کے دوران ٹرین میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے ،
آپریشن کےدوران ایک بھی یرغمالی کو نقصان نہیں پہنچا ،
آپریشن انتہائی مہارت اور احتیاط سے کیا گیا اور
آپریشن کے دوران تمام دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا