کاکروچ جنتا پارٹی ایک طنز سے تحریک تک اور پاکستان کے طلبہ کے لیے ایک آئینہ

عمران عمران

کاکروچ جنتا پارٹی ایک طنز سے تحریک تک  اور پاکستان کے طلبہ کے لیے ایک آئینہ


بھارت کی سیاست میں بعض اوقات ایسے واقعات جنم لیتے ہیں جو ابتدا میں مذاق محسوس ہوتے ہیں، مگر وقت انہیں تاریخ کا حصہ بنا دیتا ہے۔ 2026 میں سامنے آنے والی Cockroach Janta Party (CJP) بھی ایسی ہی ایک مثال ہے۔
یہ جماعت روایتی سیاسی پارٹی کے طور پر نہیں بلکہ ایک طنزیہ آن لائن مہم کے طور پر سامنے آئی۔ اس کے بانی ابھیجیت دیپکے (Abhijeet Dipke) نے نوجوانوں میں بڑھتی بے روزگاری، امتحانی پرچوں کے لیک ہونے اور حکومتی بے حسی کے خلاف "کاکروچ" کی علامت اختیار کی۔ چند ہی ہفتوں میں یہ علامت لاکھوں نوجوانوں کی شناخت بن گئی اور پھر سوشل میڈیا سے نکل کر سڑکوں تک پہنچ گئی۔
ابتدائی مطالبہ صرف تعلیم کے وزیر دھرمیندر پردھان کے استعفے کا تھا، مگر جیسے جیسے احتجاج بڑھا، مطالبات حکومت کی مجموعی کارکردگی اور وزیر اعظم نریندر مودی کی سیاسی ذمہ داری تک جا پہنچے۔
اسی تحریک میں سماجی کارکن سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال علامتی حیثیت اختیار کر گئی، جبکہ طالبہ رہنما نیہا بورا اور ان کے ساتھی بھی طویل بھوک ہڑتال پر رہے۔ بعد میں پارلیمنٹیرینز اور سماجی شخصیات کی اپیل پر نیہا بورا اور ان کے ساتھیوں نے تقریباً 23 روز بعد اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی، جبکہ تحریک جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا۔
آج تحریک کہاں کھڑی ہے؟
حکومت نے مذاکرات شروع کیے ہیں، کچھ اصلاحات اور امتحانی نظام میں تبدیلیوں کے وعدے بھی کیے ہیں، لیکن احتجاجی قیادت اب بھی وزیر تعلیم کے استعفے کو بنیادی مطالبہ قرار دے رہی ہے۔ متعدد شہروں میں احتجاج جاری ہے اور اس نے پارلیمنٹ اور ریاستی سیاست دونوں پر دباؤ بڑھایا ہے۔
آنے والے دنوں میں کیا ممکن ہے؟
کسی بھی سیاسی بحران کے بارے میں یقینی پیش گوئی ممکن نہیں، تاہم موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے چند امکانات سامنے آتے ہیں:
حکومت امتحانی نظام میں اصلاحات کا اعلان کر سکتی ہے۔
وزیر تعلیم کے مستقبل پر سیاسی دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔
احتجاج اگر پرامن اور منظم رہا تو ریاستی انتخابات پر اثر ڈال سکتا ہے۔
اگر مذاکرات کامیاب ہوئے تو تحریک بتدریج کمزور بھی پڑ سکتی ہے۔
اس کے برعکس یہ کہنا کہ وزیر اعظم ضرور مستعفی ہوں گے یا حکومت لازماً گر جائے گی، موجودہ شواہد کی بنیاد پر درست نہیں ہوگا۔ ایسی پیش گوئی قیاس آرائی ہوگی، حقیقت نہیں۔
پاکستان میں طلبہ تحریکیں کیوں کمزور دکھائی دیتی ہیں؟
یہ سوال جذبات سے زیادہ سماجی تحقیق کا متقاضی ہے۔
پاکستان اور بھارت دونوں میں نوجوان آبادی بڑی ہے، مگر دونوں ممالک کے تعلیمی اور سیاسی ڈھانچے مختلف ہیں۔
پاکستان میں طلبہ سیاست پر کئی دہائیوں تک پابندیوں، تعلیمی اداروں کے اندر تنظیمی کمزوری، روزگار کے شدید دباؤ، اور سیاسی جماعتوں کے اثر و رسوخ نے آزاد طلبہ تنظیموں کی نشوونما محدود رکھی ہے۔ اس کے برعکس بھارت میں مختلف نظریاتی طلبہ تنظیمیں دہائیوں سے جامعات میں موجود ہیں، جن کے پاس تنظیمی ڈھانچہ اور قیادت موجود رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی مسئلے پر وہ نسبتاً جلد متحرک ہو جاتی ہیں۔
یہ بھی درست نہیں کہ تمام بھارتی احتجاج مکمل طور پر پرامن ہوتے ہیں یا پاکستان کے تمام احتجاج پرتشدد۔ دونوں ممالک میں مختلف نوعیت کے مظاہرے ہوئے ہیں۔ تاہم حالیہ بھارتی طلبہ تحریک کے قائدین نے مسلسل یہ مؤقف دہرایا ہے کہ احتجاج پرامن رہے گا، اگرچہ بعض مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی رپورٹ ہوئیں۔
قوموں کی تقدیر صرف ایوانوں میں نہیں لکھی جاتی؛ کبھی وہ یونیورسٹی کے ایک خاموش کمرے میں جنم لیتی ہے، کبھی کسی طالب علم کے ہاتھ میں اٹھے ہوئے پلے کارڈ پر، اور کبھی ایک بھوکے نوجوان کے خشک ہونٹوں پر۔
بھارت کے نوجوانوں نے اپنی آواز کو ایک علامت دی، ایک نام دیا، ایک نظم دی۔ وہ اختلاف کرتے ہیں، نعرے لگاتے ہیں، سڑکوں پر نکلتے ہیں، مگر ان کی اصل طاقت ان کی تنظیم ہے۔
پاکستان کا نوجوان بھی باصلاحیت ہے، مگر اکثر منتشر ہے۔ اس کے خواب ایک دوسرے سے جڑے نہیں، اس کی آواز اجتماعی نہیں بنتی۔ یہاں احتجاج کبھی سیاسی جماعتوں کے سائے میں دب جاتا ہے، کبھی روزگار کی فکر اسے خاموش کر دیتی ہے، اور کبھی خوف اس کے قدم روک دیتا ہے۔
یہ کسی ایک قوم کی برتری یا دوسری کی کمزوری کا قصہ نہیں، بلکہ تنظیم اور انتشار کا فرق ہے۔
آخرکار، تاریخ یہی بتاتی ہے کہ تبدیلی صرف غصے سے نہیں آتی؛ شعور، تنظیم، قیادت، مسلسل جدوجہد اور جمہوری عمل بھی اتنے ہی ضروری ہوتے ہیں۔ جب نوجوان اپنی توانائی کو نظم میں ڈھال لیتے ہیں تو وہ معاشروں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، لیکن ہر تحریک کی کامیابی کا انحصار اس کے مقاصد، عوامی حمایت، ریاستی ردعمل اور سیاسی حالات پر ہوتا ہے