کراچی میں سیاسی سرگرمیوں کے مرکز بہادر آباد کے اطراف اچانک پولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی۔۔۔ پولیس کی آمد کے بعد ایم کیو ایم کے مرکز کو سیل کیے جانے کی خبریں بھی گردش کرنے لگیں، تاہم متحدہ رہنماؤں نے واضح کردیا کہ دفتر سیل نہیں کیا جارہا۔۔۔ پولیس کے مطابق مصطفیٰ کمال کی آمد اور کارکنوں کے جمع ہونے کی اطلاع پر نفری تعینات کی گئی۔۔۔ صورتحال کیا ہے؟
کراچی میں ایم کیو ایم کے مرکز بہادر آباد کے اطراف پولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی۔۔۔ اچانک پولیس کی آمد نے سیاسی حلقوں میں چہ میگوئیاں شروع کردیں، تاہم ایم کیو ایم ترجمان کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ مصطفیٰ کمال کی آمد اور کارکنوں کے جمع ہونے کی اطلاع پر یہاں پہنچے ہیں۔۔۔
بہادر آباد مرکز کے باہر پولیس اہلکاروں کی موجودگی۔۔۔ آمدورفت پر نظر۔۔۔ جبکہ ایم کیو ایم رہنماؤں اور کارکنوں کی بھی مرکز میں آمد جاری رہی۔۔۔
اس موقع پر موجود ایم کیو ایم رہنما شبیر قائم خانی نے دفتر سیل کیے جانے کی خبروں کی تردید کردی۔۔۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس ایچ او نیو ٹاؤن آئے تھے اور دفتر کو تالا لگانے کے آرڈر کا بتایا۔۔۔ تاہم پولیس سے تحریری حکم نامہ طلب کیا گیا جو تاحال پیش نہیں کیا گیا۔۔۔
"ہمارا آفس کھلا ہے۔۔۔ ایس ایچ او نے زبانی کہا تھا، ہم نے کہا رٹن میں لیٹر لائیں، آپ یہاں سے جائیں۔۔۔ خوامخواہ میں ماحول ٹینس ہورہا ہے۔"
بہادر آباد مرکز کے باہر صورتحال اس وقت مزید اہم ہوگئی جب ایم کیو ایم رہنما مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی بھی مرکز پہنچ گئے۔۔۔ مصطفیٰ کمال نے گزشتہ روز پیش آنے والے واقعے پر بات کرنے سے گریز کیا اور کہا کہ دفتر کو سیل نہیں کیا جارہا۔۔۔
"کچھ بھی سیل نہیں ہورہا۔۔۔ ٹھیک ہوجائے گا، سب۔"
واضح رہے کہ گزشتہ روز بہادر آباد مرکز پر ایم کیو ایم کارکنان کے درمیان جھگڑا ہوا تھا۔۔۔ صورتحال نے اس وقت سنگین رخ اختیار کیا جب فائرنگ کا واقعہ بھی پیش آیا۔۔۔ واقعے کے بعد مرکز کے اطراف پولیس کی موجودگی نے کئی سوالات کھڑے کردیے۔۔۔
تاہم ایم کیو ایم رہنماؤں کے مطابق بہادر آباد مرکز معمول کے مطابق کھلا ہے۔۔۔ جبکہ پولیس کی بھاری نفری کی تعیناتی کے بعد علاقے کی صورتحال پر نظر رکھی جارہی ہے۔۔۔