ایم آر ڈی 1983 تحریک کے شہداء

اسحاق سومرو اسحاق سومرو

ایم آر ڈی 1983 تحریک کے شہداء


آج سے چار دہائیاں قبل ملک میں جنرل ضیاء الحق کی آمریت اور مارشل لا کے خاتمے کے لیے ملک کی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں کے مشترکہ اتحاد، تحریک بحالیٔ جمہوریت (ایم آر ڈی) کی باقاعدہ تحریک کا آغاز 14 اگست 1983 سے ہوا۔

پہلے مرحلے میں سیاسی جماعتوں کے اہم رہنماؤں اور کارکنوں نے شہروں کے اہم چوراہوں اور مقامات پر گرفتاریوں کی پیشکش کی۔ یہ تحریک ملک کے بڑے شہروں، کراچی، لاہور، کوئٹہ اور پشاور سمیت دیگر شہروں سے شروع کی گئی۔ سندھ میں یہ تحریک انتہائی تیزی اور عوام کی بڑی تعداد کی شرکت کے ساتھ شروع ہوئی۔ سندھ میں رہنماؤں کی گرفتاریوں کے دوران ہزاروں افراد شریک ہوتے تھے۔ روزانہ مختلف شہروں سے کارکن نعرے لگاتے ہوئے جب سڑکوں پر نکلتے تو عوام کے ہجوم ان کا استقبال کرتے، انہیں پھولوں کے ہار پہناتے، نعرے لگاتے اور ان کے ساتھ تھانوں کی طرف بڑھتے۔ پولیس اور دیگر اداروں کے اہلکار انہیں راستے ہی میں گرفتار کرکے لے جاتے تھے۔

سندھ سے چند ہی دنوں میں ہزاروں کارکنوں نے گرفتاریاں پیش کیں۔ سندھ کی جیلیں اور تھانے بھر گئے۔ پولیس اور انتظامیہ کے لیے انہیں رات کے وقت جیلوں میں رکھنا بھی مشکل ہوگیا۔ تھانوں میں گرفتاریاں پیش کرنے والے کارکنوں کو رات کے وقت گھروں کو بھیج دیا جاتا اور وہ دوبارہ صبح تھانوں میں آکر بیٹھ جاتے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق 1983 کی تحریک کے دوران سندھ سے 20 سے 25 ہزار افراد گرفتار ہوئے، جن میں ایک سو سے زیادہ خواتین بھی شامل تھیں۔ تقریباً 800 افراد نے اپنی جانیں قربان کیں۔ اس دور میں خبروں کا واحد ذریعہ سنسر شپ کی پابندیوں والی اخبارات تھیں۔ لوگ روزانہ بی بی سی لندن کی خبریں سننے کے لیے شہروں اور دیہات میں جمع ہوتے تھے۔

جیل بھرو تحریک کے دوران سندھ میں بہت بڑے بڑے جلوس بھی نکالے گئے۔ اس دوران پولیس کے ساتھ جھڑپیں، سڑکیں بلاک کرنا، لاٹھی چارج، آنسو گیس اور توڑ پھوڑ روز کا معمول بن گیا تھا۔ گرفتاریاں پیش کرنے والوں کی تعداد اس حد تک بڑھ گئی تھی کہ بعض اوقات تھانوں کا عملہ بھی غائب ہوجاتا اور انہیں گرفتار کرنے سے گریز کرتا۔ تحریک کے دوران کئی پولیس اہلکاروں نے اپنی ڈیوٹیاں ادا کرنے سے انکار کیا اور اپنی وردیاں اور پٹیاں اتارنا شروع کردیں، جس سے خاص طور پر سندھ میں سول نافرمانی جیسی صورتحال پیدا ہوگئی۔

روزانہ کئی شہر بند ہوجاتے تھے اور کئی مقامات پر کرفیو جیسی صورتحال ہوتی تھی۔ تحریک میں سیاسی کارکنوں کے علاوہ صحافی، ادیب، شاعر اور دانشور بھی گرفتار کیے جاتے تھے۔ ان میں سے کئی کارکنوں، صحافیوں اور لکھاریوں کو فوجی عدالتوں کی جانب سے کوڑوں کی سرعام سزائیں بھی دی گئیں۔

ایسی صورتحال میں ایم آر ڈی تحریک کی قیادت کرنے والے اس وقت سندھ پیپلز پارٹی کے صدر غلام مصطفیٰ جتوئی نے کراچی جیل کے ریسٹ ہاؤس سے ایک خط لکھ کر پارٹی کارکنوں کو تحریک ختم کرنے کا کہا، لیکن سندھ کے عوام نے ان کی اپیل مسترد کردی اور سندھ میں تحریک کئی ماہ تک جاری رہی۔

ایم آر ڈی تحریک کا سب سے بڑا واقعہ آج سے 43 سال قبل، 29 ستمبر 1983 کو سکرنڈ شہر کے قریب نیشنل ہائی وے پر پیش آیا۔ جہاں پارٹی کارکنوں اور سیکڑوں دیہاتیوں کا احتجاج جاری تھا کہ وہاں سے گزرنے والے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے ان پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں 16 افراد شہید اور 51 زخمی ہوگئے، جنہیں گرفتار کرلیا گیا۔ جلوس کی قیادت کرنے والے 70 سالہ پنہل خان چانڈیو اور ان کے بیٹے غلام عباس چانڈیو کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔ ان کے خلاف فوجی عدالت خیرپور میں مقدمہ چلایا گیا اور انہیں قید بامشقت کی سزائیں دی گئیں۔ شدید زخمی کارکن نواب شاہ کے سول اسپتال میں زیر علاج تھے، انہیں وہاں سے اٹھا کر جیلوں میں بند کردیا گیا۔

واقعے کے روز شہید ہونے والے 16 افراد میں 9 کسان تھے، دو سکرنڈ ہائی اسکول کے طالب علم، ایک منگنہار فقیر تھا جو تر میں ڈھول بجا کر خوشیاں بانٹتا تھا۔ ایک شخص سکرنڈ شہر میں مزدوری کرتا تھا، ایک دکان چلاتا تھا، ایک دودھ فروخت کرتا تھا اور ایک شخص بکریاں چراتا تھا۔ یہ سب نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والے عام کارکن تھے۔

جب میں اور سکرنڈ کے چند صحافی دوست شام کے وقت جائے وقوعہ پر پہنچے تو قومی شاہراہ پر ابھی تک شہیدوں اور زخمیوں کا خون خشک نہیں ہوا تھا۔ ان کے جوتے، چپلیں اور دیگر سامان سڑک پر بکھرا ہوا تھا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ احتجاج کرنے والے نہتے تھے اور قرآن شریف پڑھ رہے تھے، جن پر اندھا دھند فائرنگ کی گئی۔ یہ ظالمانہ آپریشن تقریباً چار گھنٹے تک جاری رہا۔ عینی شاہدین کے مطابق کئی زخمیوں کے اوپر پولیس کے ٹرک گزارے گئے، جس سے وہ ہلاک ہوگئے۔ اگلے روز صبح سکرنڈ شہر کے سیکڑوں لوگوں کے ساتھ ہم گاؤں پنہل خان چانڈیو پہنچے، جہاں شہید ہونے والوں کے ورثاء اپنے پیاروں کو دفنا رہے تھے۔ وہاں ورثاء کے علاوہ موجودہ رکن سندھ اسمبلی غلام قادر چانڈیو بھی موجود تھے، جو آنے والے لوگوں سے تعزیتیں وصول کررہے تھے۔

غلام قادر چانڈیو ورکر کلاس کے اس نمائندے کے طور پر جانے جاتے ہیں جو مسلسل 30 سال سے منتخب ہوتے آرہے ہیں۔ 1995 میں بے نظیر بھٹو نے انہیں چھ سال کے لیے سینیٹ آف پاکستان کا رکن منتخب کرایا۔ اس کے بعد وہ پانچویں مرتبہ سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ جلسوں میں اور اسمبلی کے فلور پر ایک کارکن اور پارٹی کے عام ورکر کا کردار ادا کیا ہے۔

29 ستمبر 1983 کے اس واقعے کی خبر بی بی سی نے اپنی نشریات میں پہلی خبر کے طور پر نشر کی۔ ریڈیو پاکستان نے بھی یہی خبر دیتے ہوئے کہا کہ آج سکرنڈ کے قریب قومی شاہراہ پر قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں اور شرپسندوں کے درمیان فائرنگ کے نتیجے میں 16 افراد مارے گئے اور 51 افراد زخمی ہوگئے، جنہیں گرفتار کرلیا گیا۔ آج اس تحریک کو 43 سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔ یہ تحریک طویل عرصے تک جاری رہی اور پورے ملک کے مقابلے میں سندھ میں زیادہ سرگرم رہی۔ یہ بات بھی یاد رہے کہ سندھ کے قوم پرستوں نے اس تحریک کی مخالفت کی۔ قوم پرست رہنما جی۔ ایم۔ سید نے اس تحریک کو ’’کفن چوروں کی تحریک‘‘ قرار دیا تھا۔

آج جب ملک میں نئے صوبے اور نئے یونٹس بنانے کی باتیں ہورہی ہیں تو اس کا ردعمل نہ صرف قوم پرست جماعتوں کی جانب سے سامنے آرہا ہے بلکہ پاکستان پیپلز پارٹی، جو سندھ میں ایک اکثریتی جماعت رہی ہے اور موجودہ سندھ اسمبلی میں دو تہائی سے زیادہ نشستیں رکھتی ہے، نے بھی نئے صوبوں کے خلاف اپنا موقف واضح کیا ہے۔ اس موقف اور اسمبلی کی قرارداد کے ذریعے مخالفت کے ساتھ پہلی مرتبہ ایم آر ڈی کے خیرپور ناتھن شاہ کے شہداء کے حوالے سے 12 ستمبر کو شہداء کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا دن منایا گیا۔ اس اقدام کے ذریعے مقتدر حلقوں کو یہ پیغام دیا گیا کہ اگر نئے صوبے بنانے کی کوئی کوشش کی گئی تو سندھ سے ایم آر ڈی کی تحریک جیسی بھرپور آواز اٹھ سکتی ہے۔

سندھ کے عوام کی اس تاریخی جدوجہد کے باعث دنیا بھر میں سندھ کے لوگوں کو جمہوریت پسند اور آمریت مخالف عوام کے طور پر پہچانا گیا۔ ایم آر ڈی کی تحریک آج بھی خطے میں جمہوریت پسندوں کے لیے جدوجہد اور حوصلے کی ایک مثال بنی ہوئی ہے۔