کراچی،عرفان علی
کراچی
میں کورنگی مہران ٹاون کی فیکٹری
میں بھڑکنے والی خوفناک آگ نے کئی انسانی جانیں نگل لیں۔ چیف فائر افسر نے اٹھارہ افراد کی ہلاکت
کا دعوی کیا ہے۔جس وقت آگ لگی فیکٹری کے مرکزی
دروازے اور چھت کے گیٹ پر تالا لگا تھا۔بیشتر
جاں بحق افراد کی لاشیں بری طرح جھلس گئیں۔
سی پی ایل سی کا عملہ ناقابل شناخت
لاشوں کے فنگر پرنٹس لینےاسپتال پہنچ گیا۔
کورنگی
مہران ٹاون میں واقع
فیکٹری کی نچلی منزل پر صبح دس بجے
کے قریب آگ لگی،، جس نے اوپر کی منزل کو بھی
لپیٹ میں لے لیا۔ جس وقت آگ لگی فیکٹری کے مرکزی
دروازے اور چھت کے گیٹ پر بھی تالا لگا تھا۔ فائر بریگیڈ نے فیکٹری میں لگی آگ پر قابو پالیا،، کولنگ کے عملہ
جاری ہے۔ چیف فائر افسر کا کہنا ہے کہ فیکٹری میں گلو اور پلاسٹک بنایا جاتا تھا،،
جس کے جلنے سے تیزاور گہرا دھواں پیدا ہوتا ہے۔ فیکٹری کے دروازے اور کھڑکیاں بند تھیں۔
زیادہ تر اموات بظاہر دم گھٹنے کےباعث ہوئیں۔
ریسکیو اداروں نے فیکٹری سے مزدوروں
کی لاشیں نکال کر جنا ح اسپتال منتقل کی۔ واقعہ میں جاں بحق
پانچ افراد کا تعلق دھوبی گھاٹ کے رہائشی
ایک ہی خاندان سے تھا۔ ڈائریکٹر ہیلتھ ڈاکٹر اکرم سلطان کے مطابق آگ کی شدت
بہت زیادہ تھی اور دھوئیں کے سبب اندھیرا تھا۔
آگ کی شدت کے سبب جاں بحق افراد کی لاشیں بری طرح جھلس گئیں۔ ناقابل شناخت لاشوں کے فنگر پرنٹس لینے کے لئے سی پی ایل سی کی ٹیم بھی جناح اسپتال پہنچ گئی۔فنگر
پرنٹس کے ذریعے نادرا ریکارڈ سے لاشوں کی شناخت ممکن ہوسکے گی۔ ذرائع سی پی ایل سی کے مطابق
زیادہ تر لاشیں قابل شناخت ہیں۔ شناخت ہوجانے والی لاشوں کو چھیپا سرد خانہ
منتقل کیا جارہا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے واقعہ
نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کراچی اور
لیبر ڈپارٹمنٹ سے رپورٹ طلب کرلی۔ معلوم کیاجائے
کہ واقعہ کیسے پیش آیا اور فیکٹری میں کیا حفاظتی
تدابیر تھیں اور اتنا زیادہ جانی نقصان کیسے ہوا۔