گرین لائن بس کاروٹ کیاہوگا؟

عرفان علی عرفان علی

گرین لائن  بس کاروٹ کیاہوگا؟

کراچی میں ریپڈ ٹرانزٹ بس منصوبے کے تحت پانچ خصوصی روٹس بنانے کی منصوبہ بندی دو ہزار چودہ میں شروع ہوئی ، منصوبے کی پہلی کڑی یعنی گرین لائن جو دو ہزار سولہ سےزیرتعمیر تھی اس لائن کاعنقریب فعال ہوجائےگی۔۔۔گرین لائن  بس کاروٹ کیاہوگا؟کیاسہولیات ہونگی ؟اورکتنے مسافرسفرکرسکیں گے۔

دوہزار سولہ میں بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے کی پہلی کڑی یعنی گرین لائن کی تعمیر کا کام شروع ہوا تو منصوبے کے مطابق  اس  کا روٹ سرجانی ٹاون سے بزنس ریکاررڈ روڈ تک تھا ۔اس پرچھ  ارب  روپے  لاگت آنی  تھی۔ منصوبے کے روٹ کو پہلے   جامع کلاتھ اور پھر ٹاور تک بڑھا دیا گیا  اس  طرح منصوبے کی لاگت ستائیس  ارب سےبڑھ گئی۔


منصوبہ کاپہلامرحلہ سرجانی ٹاون سے نمائش چورنگی تک کاروٹ ہے۔۔۔جوبائیس کلومیٹرپرمحیط ہے۔۔۔سرجانی ٹاون سے نکلنےوالےفورکےچورنگی سے ہوتی ہوئی یوپی موڑپہنچے گی۔۔۔جہاں سے بس ناگن چورنگی سے ہوتی ہوئی  نارتھ ناظم آباد،ناظم آباد سے گلبہارسینٹری مارکیٹ تک پہنچے گی۔۔۔ یہاں سے بس کی اگلی منزل لسبیلہ سے گرومندرہوگی۔۔۔جہاں سےبس مزارقائدکےسامنےبنائےگئےانڈرباس سے ہوتی ہوئی نمائش چورنگی پرپہنچے گی۔۔۔گرین لائن کےروٹ پربائیس  اسٹاپ بنائےگئےہیں ان بس اسٹاپ پرمسافروں کےلیےلفٹس،بزرگ اور خصوصی افرادکےلیےویل چئیرریپم بنائےگئےہیں ۔۔۔تمام بس اسٹاپ پرکینٹن،واش روم اورٹکٹ بوتھ موجودہونگے۔۔۔ایک محیط اندازے کےمطابق  اس سفری سہولت سے یومیہ ڈیڑھ لاکھ افراد مستفیدہوسکیں گے۔۔۔


گرین لائن کےلیےچینی سےمنگوائی گئی جدیدسہولیات،وائی فائی،موبائل چارجنگ پورٹ ،انٹرٹنمنٹ اسکرین اورپانچ سیکورٹی کیمروں سے آراستہ بس کی لمبائی اٹھارہ میٹرہے۔۔۔سیٹوں کےلحاظ سے اس بس میں چوالیس  افراد سفرکرسکتےہیں جبکہ رش کے اوقات میں ایک سواسی افراد سفرکرسکتےہیں۔۔۔مکمل طورپرائیرکنڈیشن بس میں دوسیٹیں معذورافرادکےلیےمختص ہیں۔۔۔بس کے دونوں اطراف تین تین  ہیڈولیک کنٹرول دروازے ہیں۔۔۔جن میں ریمپ کی سہولت بھی موجودہے۔۔۔ بس میں اشتہارات لگانےکےلیےاٹھارہ جگہیں مختص ہیں ۔۔۔ہربس کنٹرول روم سےانٹرنیٹ کےذریعےمنسلک ہوگی۔۔۔بس کوتکینکی خراب کی صورت میں روٹ  سے ہٹانےکےلیےدوہیوی  خصوصی لفٹربھی منگوائےگئےہیں۔