کراچی میں اسٹریٹ کرائم پر قابو پانے کے سب فارمولے فیل ہوگئے

صبانور صبانور

کراچی میں اسٹریٹ کرائم پر قابو پانے کے سب فارمولے فیل ہوگئے

کراچی میں اسٹریٹ کرائم پر قابو پانے کے سب فارمولے فیل ہوگئے۔۔۔رواں سال کے  نو ماہ میں کراچی والوں کو 2ارب 15کروڑ 51 لاکھ روپے سے  زائد  کی اشیاء سے محروم کردیا گیا ۔۔۔ماہ ستمبر بھی لوٹ مار  کا گراف اوپر ہی رہا اور حالات میں بہتری نہ آسکی۔

الٹی ہوگئی سب تدبیریں ۔۔۔ کچھ نہ دوا نے کام کیا۔۔۔

وقت گزرتا رہا  اور کراچی والے  لٹتے رہے۔۔۔سال 2021 کے نو ماہ میں  کراچی والوں سے ریکارڈ لوٹ مار کی گئی۔۔۔رواں برس شہریوں کو 38ہزار 562 موٹرسائیکلوں ،18ہزار 777 موبائل فونز جبکہ 1ہزار 480گاڑیوں سے محروم کیا جاچکا ہے۔۔۔

کراچی  سے  چوری اور چھینی گئی  ایک گاڑی  کی اوسطا قیمت 9لاکھ روپے تصور کی جائے تو اس حساب سے  رواں سال شہریوں کو 1ارب33کروڑ 20 لاکھ روپے مالیت کی گاڑیوں سے محروم کیا گیا۔

موٹر سائیکل کی اوسطا قیمت 25 ہزار روپے  رکھیں  تو  نو ماہ کے  دوران 96 کروڑ 40 لاکھ50 ہزار روپے مالیت کی موٹر سائیکلیں چور لٹیرے لے کر چلتے بنے۔

اسی طرح موبائل فون کی اوسط قیمت 10 ہزار روپے رکھی جائے تو شہریوں سے رواں سال اب تک 18 کروڑ 77 لاکھ 70 ہزار روپے مالیت کے موبائل فونزاسٹریٹ کرمنلز چھین چکے ہیں۔۔۔

تازہ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ ماہ ستمبر  شہریوں کے لئے ستمگر رہا اور اس مہینے کراچی والوں کو 4ہزار 456موٹرسائیکلوں،2ہزار 190 موبائل فونز اور 214 گاڑیوں سے محروم کردیا گیا۔۔۔