مہنگائی کے باعث سندھ حکومت کا بڑا اعلان۔ صوبے کے تمام سرکاری اور
نجی اداروں میں کم از کم آمدنی پچیس ہزار
روپےہونے پر فوری عملدرآمد کرایا جائے گا۔
بوقت ضرورت کم از کم آمدنی مزید بڑھانی کا بھی اعلان کردیا گیا۔ وزیر اعلٰی سندھ کہتے ہیں وفاق نے اداروں کے درمیان
ٹکراو کی صورت حال پیدا کردی ہے۔
کابینہ اجلاس کے بعد وزیراعلی سندھ کا کہنا تھا کہ مہنگائی سے عوام کا برا حال ہے۔ بجٹ میں کم از
کم آمدنی 25 ہزار مقرر کی تو بہت تنقید کی گئی۔ہمارے خلاف عدالت سے رجوع کیا گیا،
لیکن فیصلہ ہمارے حق میں آیا۔
کورٹ نے یہ فیصلہ کیاکہ سندھ حکومت نے جو کم سے کم اجرت 25ہزار کی
ہےبالکل ٹھیک ہےایک پراسیس ہوتاہے الٹی میٹلی یہ صوابدید ہے
وزیر اعلی سندھ نے بتایا کہ
کابینہ نے اساتذہ کی بھرتی کے لئے خواتین ، معذور افراد اور اقلیتی افراد کیلئے
پاسنگ مارکس کم کردیئے ہیں۔
قانون میں موجود ہے
اُن کا ایک کوٹہ ہے ۔اسی طرح اقلیتوں کا کوٹہ ہے اب اس کوٹے کے حساب سے اگر یہ
ماسک رکھ رہے تھے تو پورے نہیں ہورہے تھے جگہیں خالی جاتی تو اسکولوں میں ٹیچر نہیں
آتے
وزیر اعلٰی سندھ نے کہا کہ اسپیکر سندھ اسمبلی کے ساتھ پہلے بھی زیادتی
ہوئی تھی۔ انہیں گرفتار کیا گیا اور پھر کیس بنایا گیا۔
کابینہ نے ہیلتھ مینجمنٹ کیڈر قائم کرنے اور کراچی میں نیول ہاوسنگ
سوسائٹی کےلئے 200 ایکٹر زمین دینے کی منظوری دی۔ اجلاس میں 433 اعشاریہ 25 ایکڑ اراضی
سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کو دینے
کی بھی منظوری دی گئی۔