کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں زیر تعمیر مکان پر فائرنگ کرکے باپ کو
قتل،بیٹے کو زخمی کردیا گیا۔پولیس نے واقعہ رقم کے لین دین کا تنازع قرار دے دیا۔
نوجوان روتے ہوئے
سر سے باپ کا سایہ اچانک اٹھ جانے پر جاوید کو اک پل قرار نہیں
آرہا۔زخمی بازو لئے والد کی میت کے سرہانے آہ و بکا کرتا یہ نوجوان سوال کررہا ہے
کہ ہمیں کس جرم کی سزا دی گئی۔
جاوید،زخمی نوجوان کہتےہیں کہ دوآدمی آئے تھے گیٹ پر پھر ابونے کہا کون ہے ،
بلا کر کہا پیسے دے دو ، ابو نے کہاصبح دے دیںگے ۔۔۔ پھر اتنی دیرمیں ابوکوگولی
ماردی۔۔۔ اتنی دیر میں میں بھاگا تو مجھے بھی گولی ماردی ۔۔۔
رشتے دار کہتے ہیں کہ فیکٹری
میں مزدوری کرکے پائی پائی جوڑکر زخمی جاوید اور اس کے بھائیوں نے پلاٹ خریدا مگر
جب اسے تعمیر کرنے لگے تو جان کے دشمن آپہنچے۔
غلام مصطفی، بھائی مقتول صدر الدین کہتے ہیں دوآدمی آئے تھے گیٹ پر پھر ابونے کہا کون ہے ، بلا کر کہا پیسے دے دو ، ابو نے کہاصبح دے دیںگے ۔۔۔ پھر اتنی دیرمیں ابوکوگولی ماردی۔۔۔ اتنی دیر میں میں بھاگا تو مجھے بھی گولی ماردی ۔۔۔
ارشاد، بھائی مقتول صدر الدین ۔۔۔کھانے کا وقفہ ہوا تو مزدور چلے گئے کھانا کھانے ، یہ دونوں بیٹھے ہوئے تھے ۔۔۔ اس ہی دوران دو بندے آئے موٹرسائیکل پر اورفائرنگ کردی۔۔۔ بھائی سے پیسوں کی بات ہوئی تو اس ہی دوران گولی ماردی۔۔۔
پولیس کا کہنا ہے کہ باپ بیٹے پر فائرنگ کا واقعہ بظاہر رقم کے لین دین کا تنازع معلوم ہوتا ہے۔ موٹر سائیکل سوار ملزموں نے فائرنگ سے قبل رقم کا تقاضہ کیا اور نہ ملنے پر فائرنگ کردی۔ ہلاک شخص کی لاش ضابطے کی کارروائی کے بعد آبائی علاقے روانہ کردی گئی۔