کراچی میں ریلوے کی زمین پر تجوری ہائیٹس کی تعمیر کا معاملہ۔ چیف
جسٹس سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ طے
ہوچکا کہ یہ عمارت غیرقانونی ہے۔ وکیل کلائنٹ سے پوچھ کر بتائیں خود گرائیں گے یا
ہم حکم دیں ۔ جو بھی اسٹرکچر ہے ڈیٹونیٹر سے گرانے کا حکم دیں گے ۔
سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں
دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے تجوری ہائیٹس کے وکیل رضا ربانی سے کہا کہ آپ
کو ملکیت منتقل ہی نہیں ہوئی ۔اگر ترمیم کی اجازت ملی بھی تو سروے ایک سو نوے
کی ملی۔ آپ سروے ایک سو اٹھاسی میں
تر میم کا دعوی کیسے کرسکتے ہیں ۔پاور آف اٹارنی میں تو سروے ایک سو نوے کا تھا ۔ آپ ایک پراپرٹی کی جگہ دوسری پراپرٹی
کا ایڈریس کیسے لکھ سکتے ہیں۔ وکیل تجوری ہائٹس بولے کہ ایک جگہ ٹائپو ایرر کی وجہ
سے ایک سو نوے لکھا گیا ہے۔ چیف
جسٹس نے کہا یہ ٹائپو ایرر نہیں ہے ہر جگہ
ایک سو نوے لکھا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس
دیئےکہ یہ طے ہوچکا ہے کہ عمارت غیر قانونی
ہے ۔ دستاویزات میں رد و بدل کیا گیا ہے۔ وکیل سے کہا کہ کل تک کلائنٹ سے پوچھ کر
بتائیں،، خود گرائیں گے یا ہم حکم دیں ۔ وکیل تجوری ہائیٹس بولے کہ ابھی پوری
بلڈنگ بنی بھی نہیں ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا
کہ جو بھی اسٹرکچر ہے، ہم ڈیٹونیٹر سے
گرانے کا حکم دیں گے۔ سماعت 29 اکتوبر تک ملتوی کردی۔