گندم کی مناسب قیمت نہ ملنے اور پانی کی عدم دستیابی کے خلاف عوامی تحریک اور سندھی ہاری تحریک نے خیرپورناتھن شاہ میں کمیونٹی سینٹر سے پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی۔
کاشتکاروں کو باردانہ دو،
گندم کی خریداری کا ہدف بڑھاؤ، ارسا ایکٹ میں ترمیم منسوخ کی جائے، نہروں اور
شاخوں کے بند مضبوط کیے جائیں، سیلاب کے دوران شاخوں اور نہروں کو لگے کٹ بند کئے
جائیں، گندم کی اسمگلنگ بند کی جائے،
کسانوں کا معاشی
قتل عام بند کرو، ذخیرہ اندوزی نامنظور کے نعرے لگائے گئے۔ ریلی کی قیادت
عوامی تحریک کے مرکزی میڈیا سیکرٹری کاشف ملاح، عوامی تحریک ضلع دادو کے صدر ایڈووکیٹ
نجیب الرحمٰن مہیسر، عاطف ملاح، منظور سوڈھر، شبیر احمد کہوسو، ہادی ڈنو کونہارو،
ھذب الله کہوسو، راشد بھرگڑی، الطاف لانگاہ، سرمد گاڈھی، عبدالرسول کونہارو اور دیگر
رہنماؤں نے کی۔ احتجاج میں مطالبہ کیا گیا کہ گندم کی خریداری کا ہدف 9 ملین
ٹن سے بڑھا کر کم از کم 17 ملین ٹن مقرر کیا جائے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے
رہنماؤں نے کہا کہ گندم کی مناسب قیمت نہ دے کر کسانوں کا معاشی قتل عام کیا جا
رہا ہے۔ حکومت سندھ نے گندم کی امدادی قیمت 4000 روپے مقرر کی ہے جو کہ بہت کم ہے
مگر اس کی قیمت پر بھی گندم نہیں خریدی جا رہی، تاجر حکومت سندھ کی سرپرستی میں 32
سے 35 سو روپے کے حساب سے گندم خرید رہے ہیں۔
گزشتہ سال حکومت
سندھ نے گندم کی خریداری کا ہدف 14 ملین ٹن رکھا تھا جو اسمگلنگ کی وجہ سے حاصل نہ
ہوسکا جس کے باعث آٹے کی شدید قلت پیدا ہوگئی تھی۔ رواں سال حکومت سندھ نے گندم کی
خریداری کا ہدف 14 لاکھ ٹن کے بجائے کم کر کے 9 لاکھ ٹن مقرر کیا ہے، جس وجہ سے
اسمگلنگ میں اضافہ ہوگا۔
حکومت سندھ گندم کی خریداری میں کمی کرکے ایک بار پھر آٹے کا بحران پیدا کرنا چاہتی ہے۔ اسمگلروں کی سہولت کے لیے کسانوں اور آبادگاروں کے لیے سرکاری خریداری مراکز بند کیے جا رہے ہیں۔ حکومت سندھ کسانوں اور کاشتکاروں سے گندم نہیں خریدتی تاکہ اسمگلر ان سے سستے داموں گندم خرید سکیں۔
رہنماؤں نے مزید کہا کہ
محکمہ خوراک کسانوں سے سرکاری قیمت پر گندم نہیں خرید رہا۔ سندھ حکومت نے
کسانوں اور کاشتکاروں کے لیے گندم خریداری مراکز بند کر دیے ہیں۔ حکومت سندھ
کسانوں کو باردانہ دینے کے بجائے تاجروں اور جاگیرداروں کو باردانہ دے رہی
ہے۔ بیج، کھاد اور زرعی ادویات بلیک مارکیٹ میں فروخت ہو رہے ہیں۔
حکومتی سرپرستی میں تاجروں اور جاگیرداروں نے عوام کی زندگی اجیرن بناد دی
ہے۔
ان کا مزید کہنا
تھا کہ ایریگیشن ایکٹ کے تحت نہروں اور کینالوں کی دیکھ بھال محکمہ آبپاشی کی
قانونی ذمہ داری ہے۔ سندھ کا محکمہ آبپاشی کرپشن کا شکار ہے۔
2022 کے سیلاب میں کینالوں
کی مرمت پر 30 ارب روپے خرچ کیے گئے لیکن کینالوں کی حالت ابتر نظر آتی ہے۔ بارشیں
شروع ہونے کو ہیں، محکمہ آبپاشی کینالوں کی مرمت کے پیسے ہتھیا کر بارشوں کی نعمت
کو ایک بار پھر مصیبت میں بدلنا چاہتا ہے۔ کینالوں اور شاخوں کی مرمت کا بجیٹ
بھی ہڑپ کر لیا گیا ہے۔
محکمہ آبپاشی کو کرپشن کا بے تاج بادشاہ بنا دیا گیا
ہے۔ ایک طرف محکمہ آبپاشی کسانوں اور آبادگاروں کو پانی سے محروم کر کے جاگیرداروں
اور سرداروں کو اضافی پانی دے رہا ہے تو دوسری طرف پنجاب نئی نہریں، کینال اور ڈیم
بنا کر سندھ کا پانی روک رہا ہے۔
پیپلز پارٹی کی
حکومت پنجاب کے حکمرانوں کے ساتھ مل کر سندھ کے کسانوں اور آبادگاروں کو پانی سے
محروم کر رہی ہے۔