پاکستان
اسٹاک ایکسچینج میں نئےچائنیزسافٹ وئیرکےاستعمال کا تجربہ ناکام ہوگیا۔۔ یکم
نومبرسےپرانےسوفٹ وئیرکیڈ کونافذکیا گیا،، جس کےبعدمارکیٹ میں 29 اکتوبرکوختم
ہونےوالےہفتےکی نسبت کاروبار کی مالیت 202 ارب روپےبڑھ کر8 ہزار96 ارب روپےتک پہنچ
گئی۔ 29 نومبر کو ختم والے ہفتے میں
کاروباری مالیت 7ہزار889 ارب روپے رہی تھی
25 اکتوبرکوپاکستان
اسٹاک ایکسچینج میں 46 کروڑروپےکی خطیررقم سےخریدےگئے،، چائینیزسافٹ وئیرکا نفاذکیاگیا۔۔
29 اکتوبرتک ختم ہونیوالےہفتےمیں اس سافٹ وئیرکا استعمال ہوا،، لیکن سافٹ وئیراوراسکےسپورٹ
کیلئےبنایاگیاجیڈ سافٹ وئیرکا تجربہ ناکام ہوگیا۔۔
29 اکتوبرکوختم
ہونیوالےکاروبارہ ہفتےمیں سرمایہ کاروں سمیت بروکرز۔۔ اورٹریڈرزکونقصان کا سامنا
کرنا پڑا۔۔ مارکیٹ ہفتےمیں ایک روز2 گھنٹےکیلئےبندبھی کی گئی،، اختتام ہفتہ پرمارکیٹ کیپٹلائزیشن 7ہزار889 ارب روپےتھی۔۔
جسمیں 1 ارب سےزائد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔۔
(والیم کی جہاں تک
بات کریں توپہلےروزہی پرانےسوفٹ وئیرکودوبارہ لایا گیا مینجمنٹ کا بہت اچھا فیصلہ
تھا پہلےدن ہی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوتےدیکھا،، اچھی خبروں کےباوجود ہم
لاسٹ ویک ٹریڈنگ مارکیٹ میں ٹریڈرزکاروبارنہیں کرسکے،، والیم ہم نےدیکھے15 سے20
کروڑکا ڈیلی ایوریج والیم بن رہا تھا،، جسکی اہم وجہ رول اوورویک تھا یہ بھی ممکن
تھا کہ والیم اورمزید کم ہوسکتےتھے،، پلس اس ویک میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال
ہواہم نےدیکھا 43 کروڑکا کاروبارپہلےدن ریکارڈ کیا گیا،، یہ کہنا ٹھیک ہوگا کہ
سرمایہ کاروں نےمارکیٹ میں سرمایہ کاری کی،،لاسٹ ویک نیوٹریڈنگ سسٹم میں کچھ غلطیوں
اورخامیوں کی وجہ سےکنفرمیشن اورفیچرزکی مسنگ ہونےکی وجہ سےمارکیٹ میں پارٹی سپیٹ
نہیں کرپارہے تھے،،، نیوٹریڈنگ سسٹم کی وجہ سےکتنا لاس کیا،، کیپیٹل مارکیٹ
کےاندرانوسٹرزکا لاس ہوااسٹاک بروکرزکا لاس ہوا،، کمیشن اوردیگرسیکٹرمیں اورپلس
اسٹاک مارکیٹ کیلئےایک بڑا لاس دیکھنےکو ملتا ہے،، نیشنل کلئیرنگ،، سی ڈی سی،، سب
جو انٹرکنکٹڈڈ ہیں مارکیٹ سے،، ان سب کولاس بئیرکرنا پڑا یہ ایک اچھا فیصلہ ثابت
نہیں ہوسکا ٹریڈنگ سسٹم کولانےکا،، ہماری درخواست تھی کہ 2 موک سیشن ایسےکرلیں جو
ایرر فری ہوں اسی چیزکودیکھتےہوئےفیصلہ کیا گیاتھا کہ ایسےفیصلےسےسبھی کونقصان
برداشت کرنا پڑا)
یکم
نومبرکوشروع ہونیوالےکاروباری ہفتےمیں پرانےکیڈ سوفٹ وئیرکا استعمال ہوا،، کنکٹی ویٹی
سمیت،، مارکیٹ بند ہونےاورٹریڈنگ ڈسپلےکی شکایات دورہوگئی۔ مارکیٹ ٹریڈرزاورکمپنی
ڈائریکٹرزسمیت بروکرزنےپرانےسوفٹ وئیرپرکاروبارجاری رکھنےکا مطالبہ کیا
تھاجوپوراہوگیا۔
29 اکتوبرکی
نسبت کاروباری ہفتےکےپہلےروزمارکیٹ میں 25 کروڑ روپےکےسودے ہوئے،، اسی طرح کاروباری
ہفتےکےاختتام پرمارکیٹ کیپٹلائزیشن 202 ارب روپےسےبڑھ کر8 ہزار96 ارب روپےتک پہنچ
گئی۔۔
)نئےسوفٹ
وئیرجیڈ کی وجہ سےجووالیم شرنک ہوگئےتھے،، سودا ایگزیکیوٹ کرنےمیں مسئلہ آرہا
تھا،، لیکن اگرہم گزشتہ ہفتےسےاس ویک کا موازنہ کریں توجب سےہم پرانےسوفٹ وئیرکی
طرف گئےہیں اسمیں کوئی بھی پرابلم نہیں آیا،،بہت اسموتھلی بازارچلی ہے،،ساتھ ساتھ
بازارمیں تیزی دیکھی گئی،، والیم بھی جنریٹ ہوئے،، آئی ٹی سیکٹر،سمینٹ ، آئل سیکٹرنےاچھا
پرفارم کیا ہے،یہ ہفتہ اسٹاک مارکیٹ کیلئےاچھا گیا ہے(
)نئےسوفٹ
وئیرچل رہا تھا اسکی وجہ سے ٹریڈنگ ڈسٹرب تھی اچھی خبریں منفی ہوگئی۔۔ پرانےسوفٹ
وئیرمیں لوگوں نےکام کیا،، لوگوں کو اچھی معلومات بھی تھی لوگوں نےکام کیا،، والیم
بھی اچھےآئےہیں،،،پچھلےپروگرام میں 9 کروڑ کےوالیم بنےتھے،،مارکیٹ کےاختتام سےایک
دن قبل 56 کروڑ کےوالیم بن گئےہیں،،،نئےسوفٹ وئیرکےمقابلےاب والیم 5 گنا زیادہ ہوگیا
ہے(
5 نومبرکوختم
ہونیوالےکاروباری ہفتےمیں 100 انڈیکس 1ہزار111 پوائنٹس اضافے سے47 ہزار295 پوائنٹس
پربند ہوا۔۔۔
29 اکتوبرکوختم
ہونےوالےہفتےمیں مارکیٹ میں انڈیکس 606 پوائنٹس اضافے سے46 ہزار148پوائنٹس پربند
ہوا۔۔