سندھ ہائی کورٹ نے آفیشل
اسائنی کو قصر فاطمہ المعروف موہاٹا پیلس کو
تحویل میں لینے سے روک دیا۔آئندہ سماعت تک حالت جوں کی توں برقرار رکھنے کا
حکم دے دیا۔
سندھ ہائی کورٹ میں قصر
فاطمہ سے متعلق سنگل بینچ کے حکم
کےخلاف سندھ حکومت کی اپیل کی
سماعت ہوئی۔ جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس
دیئے کہ سنگل بینچ کے حکم میں تو سندھ حکومت کے وکیل کی رضا مندی شامل ہے۔اس پر ایڈیشنل
ایڈوکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ سرکاری وکیل نے اپنی مرضی سے رضا مندی کا اظہار کیا ۔
رضامندی ظاہر کرنے والے اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل کی ستمبر میں ہی تقرری ہوئی تھی۔
عدالت نےدریافت کیا کہ آپ لوگ وہاں میوزیم کیوں چلارہے ہیں ؟ ایسا
کوئی حکم عدالت کی طرف سے ہوا تھا ؟ وکیل
موہاٹاگیلری ٹرسٹ نے بتایا کہ ٹرسٹ کے تحت میوزیم چل رہا ہے۔عدالت نے فریقین
کو اٹھارہ نومبر کے لئےنوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت تک حالت جوں کی توں برقرار
رکھنے کا حکم دیا۔ موہاٹہ پیلس گیلری ٹرسٹ کی فریق بننے کی درخواست پر بھی نوٹس
جاری کردیئے۔سندھ ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے آفیشل اسائنی کو قصر فاطمہ تحویل میں
لینے ، موہاٹا پیلس کا نام تبدیل اور میڈیکل کالج کے قیام کا حکم دیا تھا۔