کراچی میں ایک
بارپھرڈیری فارمرزنےمن مانی کرکےدودھ کی قیمت دس
روپےبڑھاکرقیمت ایک سو چالیس روپےکردی۔
کمشنرکراچی نے قیمت کے تعین کی خاطر اجلاس
بلایا،، کمیٹی بھی بنی لیکن قیمت بڑھا دی گئی۔مسابقتی کمیشن نے جون میں جاری رپورٹ میں بتایا تھا کہ
ڈیری فارمرزنےکارٹل بنارکھا ہے۔غیرقانونی
وصولی کی گئی،، لیکن انتظامیہ نےکوئی ایکشن نہیں لیا۔
مسابقتی کمیشن
نے جون 2021 میں کراچی میں دودھ کی تجارت میں فارمرز اور ہول سیلرز کی اجارہ داری
کا انکشاف کیا تھا۔ ڈیری سیکٹر کا کارٹل ملی بھگت سے قیمت مقرر کرتا ہے،،ساتھ ہی یہ
بھی بتایا کہ ڈیری کارٹل نے ایک سال میں 47 ارب روپے کی غیر قانونی وصولیاں کیں۔
کمشنرکراچی نےقیمت کےتعین کیلئےمیٹنگزبھی کی لیکن سب بےسود رہا۔ ڈیری فارمرزنےشہرمیں
دودھ کی قیمت بڑھادی۔
شہرکےاکثرعلاقوں
میں دودھ 140 روپے میں فروخت کیا جارہا ہے۔کچھ علاقوں میں دودھ 100 سے120 روپےکلو بھی دستیاب
ہے۔ دکاندارکہتےہیں اضافہ ناگزیرتھا۔۔
سندھ ہائیکورٹ
نے ایک ماہ میں کمشنرکراچی کودودھ کی قیمت کےتعین کا حکم دےرکھا ہے،،فارمرزکوقیمت
نہ بڑھانےکیلئےپابند کررکھا تھا لیکن اسکےباوجود قیمت میں من مانی کی گئی۔۔شہرمیں
دودھ کی یومیہ ضرورت 50 لاکھ لیٹرہے۔۔