کراچی، گلشن اقبال میں غیر
قانونی تعمیرات کا معاملہ۔عدالت نے بلڈر کے خلاف ایف آئی آر درج اور افسران کے خلاف انکوائری کا حکم دے دیا۔
سندھ ہائی کورٹ میں گلشن اقبال تیرہ ڈی ون میں غیر قانونی تعمیرات کیس
کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے بلڈر اور ایس بی
سی اے افسران کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ بار بار
کہہ چکے، بلڈر اور متعلقہ افسر کے خلاف کارروائی ایک ساتھ ہوگی۔ آپ کو کارروائی کے
لیے کیا ثبوت چاہیے۔اونچی اونچی عمارتیں کیا ثبوت کے لیے کافی نہیں۔ اس پر وکیل
درخواست گزار نے کہا کہ بلڈر نے گراونڈ
پلس فائیو عمارت کھڑی کردی ہے۔ عدالت نے دریافت کیا کہ دوہزار سولہ میں بلڈر کے خلاف ایف آئی آر ہوئی، بتائیں کیا
ہوا کیس میں۔اس پر ایس بی سی اے افسران بلڈرز کے خلاف کارروائی سے لا علم نکلے۔
جسٹس ظفر راجپوت نے کہا یہ تو حال ہے آپ لوگوں کا۔ عدالت نے بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے ایک ماہ میں عمل درآمد
رپورٹ طلب کرلی۔ عدالت نے بلڈر کے خلاف ایف آئی آر اور افسران کے خلاف انکوائری کا
حکم دے دیا۔