سندھ میں عملاٰ آمریت کا راج ہے


سندھ میں عملاٰ آمریت کا راج ہے

 

وفاق وزیر اطلاعات فواد چودھری نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ سندھ میں آرٹیکل 140 اے کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے،،، سندھ کے حکمران صوبے کے سب سے بڑے دشمن ہیں،سندھ میں عملاٰ آمریت کا راج ہے، سندھ سرکار کوجتنا بھی پیسا دیا جاتا ہے وہ دبئی اور کینڈا سے نکلتا ہے،،، وفاق مرحلہ وار سندھ کے تما منصوبوں پر مانیٹرنگ کا نظام لارہا ہے،،، سپریم کورٹ کے ریمارکس پر مراد علی شاہ کی جگہ کوئی اور ہوتا تو استعفیٰ  دے کر گھر چلا جاتا،،، مگر وزیر اعلٰی سندھ چیف جسٹس کے خلاف تقاریر کرارہے ہیں، وفاقی وزیر نے دعوٰی کیا ہے کہ سندھ میں آئندہ حکومت پی ٹی آئی کی ہوگی۔ کراچی پریس کلب میں خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے بلاول جمہوریت کی بات کرتے ہیں لیکن سندھ میں آمریت رائج ہے،،، ہمارے اراکین اسمبلی سندھ حکومت کو بے نقاب کررہے ہیں ضروری ہے کہ سندھ کو ملنے والے پیسوں کی مانیٹرنگ کی جائے،،، پہلے مرحلے میں پی ایس ڈی پی کے تمام منصوبوں پر وفاق مانیٹرنگ کا نظام لارہا ہے۔ چوری کررہے ہیں، ارسا نے کارروائی شروع کی تو مراد علی شاہ بھاگ گئے،،، فواد چودھری نے سوال کیا کبھی زرداری، فریال تالپور اور مراد علی شاہ کی زمینوں کا پانی چوری کیوں نہیں ہوتا۔ فواد چودھری نے دعوٰی کیا کہ سندھ میں آئندہ الیکشن میں وزیر اعظم خود الیکشن مہم کی سربراہی کریں گے اور سندھ میں آئندہ حکومت تحریک انصاف کی ہوگی،،، انہوں نے الیکٹرول ریفارمز سمیت دیگر معاملات اپوزیشن کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف پارٹی فیصلوں میں آزاد دکھائی نہیں دیتے وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ مریم اور بلاول کبھی افغانستان سمیت دیگر ممالک سے تعلقات کے بارے میں کچھ نہیں کہتے،،، وزیر اعظم پہلے حکمران

ہیں جنہوں نے افغانستان پر واضح اور دو ٹوک موقف دیا ہے۔