کراچی کے صنعت
کار گیس بحران سے پریشان۔صدر سائٹ ایسوسی ایشن کہتےہیں
سندھ میں گیس پیدا ہوتی ہے،،لیکن
ہمیں دستیاب نہیں۔تاجر و صنعت زبیر موتی والا کا کہنا ہے کہ صنعتوں کو گیس کی فراہمی
مزید کم کی جارہی ہے۔ مارچ تک ایکسپورٹ آرڈرز ہیں۔ ان حالات میں ان کا پورا ہونا مشکل نظر آتا ہے۔
کراچی کی صنعتوں کو گیس بحران پر سائٹ ایسوسی ایشن میں صنعت کاروں اور
تاجروں نے پریس کانفرنس کی۔
تاجر و صنعت کار زبیر موتی والا کا کہنا تھاکہ سوئی گیس
حکام کو پیش کش کی کہ
بحران میں لوڈ مینجمنٹ پلان کے تحت کام کرسکتے ہیں مگر کوئی اس پر کام
کرنے کو تیار نہیں۔ مشیر تجارت رزاق داؤد کہتے ہیں ہمارے پاس
ایکسپورٹ کے لئے ورائٹی کم ہے،،لیکن
ان حالات میں تو کام کرنا ہی مشکل
ہے۔
ہم سے کہتے ہیں جو گیس 180 ہے جو سندھ کے لیے ایلوکیٹ
ہے ہم کسی مانگ نہیں رہے سندھ کی سندھ کےلیےمانگ رہے ہیں
صدر سائٹ ایسوسی ایشن نے کہا کہ سندھ میں گیس پیدا
ہوتی ہے،،لیکن ہمیں دستیاب نہیں۔ سندھ
حکومت نے ایک ارب روپے دینے کا وعدہ کیا،،لیکن
وہ فنڈ نہیں ملا۔
حالات دن بہ دن خراب ہوتے جارہے ہیں پانی بجلی و گیس مسائل کا نبار بڑھتا
جارہاہے
صنعتکاروں کا کہنا تھا کہ ہر سال سردی میں گیس
کا بحران ہوتا ہے،،،لیکن حکومت کی جانب سے تیاری نہیں کی جاتی جس کا
بوجھ صنعتکاروں کو اٹھانا پڑتا ہے۔