الیکشن کمیشن کی سندھ حکومت کو آخر ی مہلت۔ تیس نومبر تک بلدیاتی
الیکشن سے متعلق ضروری قانون سازی،حلقہ بندیاں
اور ڈیٹا طلب کرلیا۔ناکامی پر یکم دسمبر سے الیکشن کمیشن صوبہ میں خود ہی
حلقہ بندیوں کا عمل شروع کردے۔ الیکشن کمیشن پاکستان میں کارروائی کی تفصیلات عدالت عالیہ میں پیش
کردی گئی۔
سندھ ہائی کورٹ میں
صوبہ میں بلدیاتی الیکشن کرانے کے معاملے پر سماعت ہوئی۔ صوبائی الیکشن کمیشن
نے الیکشن کمیشن آف پاکستان میں ہونے والی کارروائی سے متعلق تفصیلات عدالت میں
جمع کرادی۔الیکشن کمیشن نے سندھ حکومت کو
آخری مہلت دیتے ہوئے کہا ہے کہ 30 نومبر
تک تمام کام مکمل کر کے ضروری دستاویزات کمیشن کے حوالے کی جائیں۔ مقررہ
وقت تک ایسا نا ہونے پر،،، یکم دسمبر سے الیکشن کمیشن صوبہ میں خود ہی حلقہ بندیوں
کا عمل شروع کردے۔
فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق گزشتہ سماعت میں چیف سیکریٹری سندھ پیش نہیں ہوئے۔ان کی جگہ سیکریٹری لوکل گورنمنٹ نے پیش ہوکر دستاویزات اور ڈیٹا کی فراہمی کے لئے مہلت طلب کی تھی۔ سندھ حکومت بلدیاتی الیکشن کرانے کے لئے وقتا فوقتا مہلت طلب کرتی رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق سندھ حکومت کے رویے سے لگتا ہے کہ وہ بلدیاتی الیکشن کرانے میں سنجیدہ نہیں ہے۔سندھ میں بلدیاتی اداروں کی مدت 30 اگست 2020 کو ختم ہوگئی تھی۔ 120 دن میں بلدیاتی الیکشن نہ کرانا آئین کی خلاف ورزی ہے ۔