سپریم کورٹ کا ایڈمنسٹریٹر کراچی کو تمام پارکس اور میدانوں کو اصل حالت میں بحال کرنے کا حکم

عرفان علی عرفان علی

سپریم کورٹ کا ایڈمنسٹریٹر کراچی کو  تمام پارکس اور میدانوں کو  اصل حالت میں بحال کرنے کا حکم

سپریم کورٹ کا ایڈمنسٹریٹر کراچی کو  تمام پارکس اور میدانوں کو  اصل حالت میں بحال کرنے کا حکم ۔ کشمیر روڑ پر بھی فوری قبضے ختم  کر کے پارک بنانے کا حکم۔ کمشنر کراچی  سے  دو ہفتے میں عملدرآمد رپورٹ مانگ لی۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں   شہر میں  پارکوں، میدانوں اور رفاہی پلاٹوں پر قبضے کے  معاملے پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضی وہاب کو شہر میں تمام قبضے ختم کرانے کا حکم  دےدیا۔ کہا کہ  پارکس اور میدانوں کو اصل شکل میں بحال کر کے  وہاں عوام کے لئے تمام سہولیات مہیا کی جائیں۔ کشمیر روڑ پر بھی فوری قبضے ختم  کر کے پارک بنانے کا حکم ۔ کمشنر کراچی کو دو ہفتے میں عمل درآمد کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

  درخواست گزار نے بتایا کہ  54 پارکس  کی زمینوں پر قبضہ ہے ۔ کچھ پارکس  کچرا کنڈی میں تبدیل ہوگئے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے جھیل پارک کا کیا بنا ۔جھیل تو ختم ہوگئی شاید۔دو تین جھیلیں تھیں۔  اتنا خوبصورت علاقہ تھا۔ سارے علاقے کا کیا حال کردیا ہے۔ ہم نے اپنے بچوں کیلئے کیا چھوڑا ہے ۔ کوئی تفریح نہیں ہے۔ ایڈمنسٹریٹر کراچی سے کہا کہ شہر  کی چار جھیلیں بند کردیں آپ نے ۔ ہم یہاں کھیلا کرتے تھے ، مچھلی پکڑا کرتے تھے ۔ یہ نیچرل جھیلیں تھیں۔ ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضی وہاب  نے بتایا کہ  وہاں پبلک پارک  اور فٹبال گرائونڈ ہے اور ایک جانب  شجرکاری  بھی کی گئی ہے ۔ درخواست گزار نے کہا کہ  جھیلیں بھر کے زمینیں الاٹ کردی گئی ہیں۔ اس پر ایڈووکیٹ جنرل  کا موقف تھا کہ ان جھیلوں سے پہلے ہی پانی ختم ہوگیا تھا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پارکس کے انتظام کے حوالے سے تو قانون سازی کریں۔ یہ سارا انتظام ایک تھا رٹی کے پاس ہونا چاہئے ۔

مرتضی وہاب نے بتایا کہ 2003 میں کمرشلائزیشن کی گئی ،  26  سڑکوں کو کمرشلائز کیا گیا ۔ کمرشلائزیشن کے بعد ٹاورز بنتے چلے گئے ۔شاہراہ پاکستان خوبصورت سڑک تھی مگر کمرشلائز ڈ کردیا گیا۔ چیف جسٹس نے پوچھا ،، کیا  آپ اس کو undo نہیں کرسکتے ؟ کچھ تو کریں ۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ شارع فیصل پر بھی سارے بنگلے تھے ختم ہوگئے ۔ بڑے شہروں میں کثیر المنزلہ عمارتیں ہوتی ہیں مگر باقاعد ہ منصوبہ بندی ہوتی ہے۔ سوک سینٹر سے  چھیپا کو ہٹائیں ۔وہ گرین بیلٹ پر بیٹھے ہیں ۔