کراچی میں رفاعی پلاٹس پر قبضہ کیس میں عدالت نیب پر برہم۔ریمارکس دیئے معاملہ دس
سال سے چل رہا ہے۔ ملزمان آزا د گھوم رہے ہیں۔اس طرح تو پورے کراچی پر قبضہ
ہوجائے گا۔ چیئرمین نیب کو نیب کی کارکردگی کا جائزہ لینے کی ہدایت کردی ۔
سپریم کورٹ
کراچی رجسٹری میں الحبیب کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے رفاعی پلاٹس
پر قبضہ کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس جسٹس گلزار احمد نے رجسٹرار
سوسائٹی سے کہا کہ پارکس و مسجد
اراضی کی الاٹمنٹ کینسل کیوں نہیں کرتے۔مسجد، اسکولز سب پلاٹس بیچ ڈالے۔جنہوں نے
الاٹمنٹ کیں وہ کیسے باہر گھوم رہے ہیں۔ کیا ریاست بے یار و مددگار ہوچکی ہے۔ رجسٹرار کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی نے
کہا کہ پلاٹس منسوخ کرنا ان کے دائرہ اختیار
میں نہیں آتا۔ اس پر چیف جسٹس نے
کہا پھر یہ کون کر ے گا۔ نیب پراسیکیوٹر
نے بتایا کہ پلاٹس کی الاٹمنٹ کی منسوخی ایس بی سی اے کا اختیار ہے۔ چار افراد نے
عبوری ضمانتیں حاصل کر رکھی ہیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ یہ ٹوٹل اینڈ،
ٹوٹل کولیپس ہے۔ ریاست فیل دکھائی دیتی ہے۔ اس طرح تو پورے کراچی پر قبضہ ہو
جائے۔جسٹس قاضی محمد امین احمد نے کہا کہ
نیب خود ملزمان سے ملی ہوئی ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ تفتیشی افسر صاحب لگتا نہیں کہ
آپ تفتیشی افسر ہیں۔ آپ کو جیل بھیج دیتے ہیں۔ عدالت
نے متاثرین کو معاوضہ ادا ،،،اور
چیئرمین نیب کو رپورٹ پیش کرنے کا
حکم دیا ۔ ملزمان کو شوکاز نوٹس بھی
جاری کردیے گئے۔