سپریم کورٹ کا کراچی کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی یونین رفاعی پلاٹس پر تعمیرات کیس عبوری فیصلہ۔ رفاعی
پلاٹس پر کسی قسم کی کمرشل یا گھروں کی تعمیرات نہیں ہو سکتیں۔سوسائٹی کی زمین پر
کمرشل سرگرمیاں، شادی ہال اور پارکنگ بند کرنےکا حکم ۔ایک ماہ میں عملدرآمد رپورٹ
مانگ لی۔
سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں کراچی کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی یونین کے رفاعی
پلاٹس پر تعمیرات کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف
جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ملک کی اکانومی ڈیڈ اسٹاک پر پہنچ چکی ۔ بیشتر بلیک اکانومی چل رہی ہے۔کمرشلائزیشن سے
انڈسٹریز بند ہوچکی ہیں۔ لوگوں نے انڈسٹریز ختم کرکے پیسہ زمینوں پر لگا دیا۔ہر
کوئی زمین پر پیسے لگا کر کما رہا ہے۔اکانومی ،،،،گھر، مکان اور بلڈنگز میں تبدیل ہو چکی ہے۔دیکھتے ہی دیکھتے کراچی کا بیڑا
غرق کردیا۔ ہر کونے پر مارکٹیں اور دکانیں
ہی دکانیں بنا دی گئی ہیں۔ دو ماہ میں کثیر المنزلہ عمارت کھڑی کر دی جاتی ہے۔اس
دلدل میں دھنستے چلے جا رہے ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ منسٹری آف ورکس نے تمام سوسائٹیز کے لے آؤٹ پلان غائب
کردیے۔ سندھی مسلم سوسائٹی کا حال تو یہ ہے کوئی چل نہیں سکتا۔ یہ شہر رہنے کے لیے
چھوڑا نہیں۔چیف جسٹس نے سیکرٹری منسٹری
آف ورکس سے کہا کہ آپ کی منسٹری
نے سب کچھ بیچ ڈالا۔ ہل پارک بھی اٹھا کر بیچ دیا ۔جناح کوآپریٹو سوسائٹی کے جنید
مانگڈا نے کہا کہ ہماری اراضی مکمل قانونی
ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کمیونٹی سینٹر، کمیونٹی سینٹر کے نام الاٹ ہوتا ہے، ، مگر یہ
کمیونیٹی سینٹر تو آپ کے نام الاٹ ہوا ہے۔عدالت نے کراچی کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی یونین
رفاعی پلاٹس کیس میں عبوری فیصلہ سنادیا۔رفاعی
پلاٹس پر کسی قسم کی کمرشل یا گھروں کی تعمیرات نہیں ہو سکتیں۔ پلاٹ نمبر 21 اور
21 اے پر تمام کمرشل سرگرمیاں بند کرنے
اور پلاٹ نمبر 23 پر ی شادی ہال اور
پارکنگ بند کرنے کا حکم۔ پارکس اراضی پر تمام سرگرمیاں بند کرنے کا بھی حکم
دے دیا۔ عدالت نے نجی افراد کو دیئے گئے رفاعی پلاٹس کی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کا حکم بھی دیا۔وزرات
ورکس کو عدالتی فیصلے پر ایک ماہ میں
عمل کر کے رپورٹ
جمع کرانے کا حکم دیا۔