محسن شکیل
ایسی ویسی باتوں پہ کیا رونا ہے
آگ لگی بستی میں یہ
تو ہونا ہے
گدلے پانی سے
دھوئے تھے کپڑے، اب
داغ مجھے دامن
کا برسوں دھونا
ہے
کیا رکھا ہے غور
و فکر کریں جس پر
پایا کیا تھا
جو اب ہم
کو کھونا ہے
ایک اداسی اگنا
ہے اب برسوں
تک
فصلِ غم ہے کھیتی
میں جو بونا ہے
اپنے آپ سے باتیں کرنا ہیں مجھ کو
میں ہوں اور کمرے
کا پچھلا کونا
ہے
پوری رات گزر
جاتی ہے رونے
میں
آدھی رات ہوئی اب
مجھ کو سونا ہے
گہری خاموشی اور
صدمہ ہے محسن
اور اسی چادر کا ایک بچھونا ہے