عالمی اردو کانفرنس میں کشور ناہید کی کتاب بری عورت کی دوسری کتھا کی تقریب اجراء بھی منعقد کی گئی،، مقررین نے کہا کہ آج دھرتی اور زبان سے جڑنے والی باتیں ہورہی ہیں

عدنان اطہر عدنان اطہر

عالمی اردو کانفرنس میں کشور ناہید کی کتاب بری عورت کی دوسری کتھا کی تقریب اجراء بھی منعقد کی گئی،، مقررین نے کہا کہ آج دھرتی اور زبان سے جڑنے والی باتیں ہورہی ہیں

عالمی اردو کانفرنس میں کشور ناہید کی کتاب بری عورت کی دوسری کتھا کی تقریب اجراء بھی منعقد کی گئی،، مقررین نے کہا کہ آج دھرتی اور زبان سے جڑنے والی باتیں ہورہی ہیں۔ ہماری عورت بول رہی ہے،،، گوادر کی عورت بول رہی ہے۔۔کشور ناہید نے ضیاء دور کے مارشل لاء کے قصے بھی دہرائے۔

عورت کے انکار میں بہت گونج ہے۔ مجھے آج سندھ کی عورت بولتی ہوئی نظر آتی ہے۔ لکھاری نورالہدی شاہ نے بری عورت کی دوسری کتھا کی تقریب اجراء کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں بچیاں جو لکھ رہی ہیں اس میں للکار اور گہرائی ہے۔۔

کشور ناہید نے ان کی بات کی تائید کرتے ہوئے کہا اب گوادر کی عورت بھی بول رہی ہے

کشور ناہید نے ماضی کا قصہ چھیڑا اور بھٹو کی شہادت پر سلیم شاہد کے شعری مجموعے کاذکر کیا۔ بتایا اس دور میں ان کا کلام ک اور ن کے نام سے شائع کیا گیا۔

کشور ناہید نےگرفتاریوں کے آمرانہ دور کو انتہائی سخت دور قرار دیا۔۔

کشور ناہید نے کہا کہ وہ پاکستان کے ہر گاؤں میں گئیں۔عورت کے کام کو دیکھا اس کی پوزیشن کو دیکھا اور پھر اپنی رائے کا اظہار کیا۔۔