کراچی میں سندھ بھر کے
نرسز کا
چودہویں روز اور ڈاکٹرز کا آٹھویں روز بھی احتجاج جاری رہا۔نرسز نے وزیراعلی ہاوس جانے کی کوشش ناکام ہونےپر آرٹس کونسل چورنگی پر دھرنا دے دیا۔ بعد میں ینگ
ڈاکٹر اور نرسز نے اجتماعی کوشش کی،، جس پر متعدد مظاہرین کو
حراست میں لے لیا گیا۔پولیس سے مذاکرات اور ساتھیوں کی رہائی کے بعد دھرنا ختم کردیا گیا۔
سندھ بھر کے ینگ ڈاکٹرز اور
نرسز کا
مطالبات کے حق میں کراچی پریس کلب پر
احتجاج آج بھی جاری رہا۔مطالبات کی
منظوری کے لئے دیا گیا وقت ختم ہونے پر احتجاجی نرسز وزیر اعلی ہاوس کی جانب روانہ ہوئے،،
تو پولیس کی بھاری نفری نے انہیں
آرٹس کونسل چوک پر روک دیا ۔اس دوران
دھکم پیل بھی ہوئی۔ مظاہرین
نے وہیں
دھرنا دے دیا۔اس دوران لیڈی پولیس
اہلکارو ں کی بڑی تعداد کے علاوہ واٹر کینن بھی موجود تھی۔اسی دوران
آٹھ روز سے احتجاج کرنے والے ینگ
ڈاکٹر نے بھی وزیراعلی ہاوس جانے کی ٹھان
لی۔ ینگ ڈاکٹر اور نرسز نے ساتھ چیف منسٹر ہاوس کا رخ کیا۔
ریڈ زون کا حصار بنائے کھڑی
پولیس پھر آڑے آئی ،، اور خواتین
سمیت متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔ینگ
ڈاکٹرز کے ہاؤس آفیسرز اور پوسٹ گریجویٹس کی تنخواہوں اور رسک الاؤنس میں اضافے،
کورونا میں کام کرنے والے ڈاکٹرز کو مستقل کرنےسمیت دیگر مطالبات ہیں۔ نرسز
ہیلتھ اور رسک الاونس کی فراہمی ، وظیفوں میں اضافے ، کوویڈالاؤنس،تقرریاںو تبادلوں،
ڈیپوٹیشن پالیسی پر عملدرآمد کا مطالبہ
کررہے ہیں۔
بعد میں پولیس سے مذاکرات کے
بعد زیر حراست مظاہرین کو رہا کردیا،، جس کے بعد
ینگ ڈاکٹرز اور نرسز نے دھرنا ختم
کردیا۔