نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان۔ شرح
سود مزید ایک فیصد اضافہ کے
بعد نو اعشاریہ سات
پانچ فیصد ہوگئی۔ نومبر میں عمومی مہنگائی بڑھ کر گیارہ اعشاریہ پانچ فیصد جبکہ
تجارتی خسارہ پانچ ارب ڈالر ہوگیا۔ شرح سود میں اضافے کا ایک
مقصد مہنگائی کے دباو سے نمٹنا بھی ہے۔
اسٹیٹ بینک نے نئی مانیٹری پالیسی میں شرح سود ایک فیصد بڑھا کر نو
اعشاریہ سات پانچ فیصد کردی ۔ مرکزی بینک
کے مطابق فیصلے کا مقصد مہنگائی کے دباؤ سے نمٹنا
اور نمو کو پائیدار
بنانا ہے۔رواں مالی سال میں
نمو چار سے پانچ فیصد کے قریب رہنے کی توقع ہے۔اسٹیٹ بینک کا
کہنا ہے کہ بلند عالمی قیمتوں اور ملکی معاشی نمو کے سبب
مہنگائی اور تجارتی خسارے میں اضافہ ہوا ہے۔نومبر میں عمومی مہنگائی
بڑھ کر گیارہ اعشاریہ پانچ فیصدہوگئی جبکہ رواں مالی سال مہنگائی کی شرح نو تا گیارہ فیصد رہنے کی توقع
ہے۔
اسٹیٹ بینک کا کہنا ہےکہ بیرونی شعبے میں ریکارڈ برآمدات کے باوجود اجناس کی
بلند عالمی قیمتوں نے درآمدی بل میں خاصا اضافہ
کیا۔اس کے نتیجے میں نومبر میں تجارتی خسارہ بڑھ کر پانچ ارب ڈالر ہوگیا۔دفتر شماریات کے مطابق جولائی تا نومبر درآمدات بڑھ
کر بتیس ارب نو کروڑ ڈالر ہو گئیں،،جو گزشتہ سال کی اسی مدت انیس
ارب پانچ کروڑ ڈالر رہی تھیں۔ حالیہ بلند اعدادوشمار کی بنا
پر جاری کھاتے کا خسارہ جی ڈی پی کا تقریبا چار فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی
ہے۔حکومت بعض ٹیکس استثنی ختم کر کے محاصل میں اضافہ اور جاری ترقیاتی اخراجات کم کرنے کے لیے قانون متعارف
کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔