اطہر منگی
بے نظیر کی باتیں .... (نظم)
جُرئتوں
نے، پالا تھا ،
حوصلہ ، ھمالیہ تھا
لہجے
میں ، جوالا تھا!
رُوپ
ہر نرالا تھا!
سندہ
کا ، حوالا تھا!
سوچوں
میں ، اجالا تھا!
ياد
کے ، نگر میں تو ،
دِن
ہی کیا ، حسیں راتیں!
بھُول
سکتے ھیں ، کیسے !؟
دل
پَذیر تھیں ، باتیں!
بے
نظیر تھیں ، باتیں !!
بے
نظیر کی ، باتیں۔۔۔!!!
بے
نظیر کی ، باتیں۔۔۔!!
بے
نظیر کی ، باتیں۔۔۔!!!