کوئٹہ میں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکس کے احتجاج کے دوران
ڈاکٹر پر تشدد کیا گیا، مظاہرین کو وزیر اعلیٰ ہاوس جانے سے روکھنے پر پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج کیاگیا۔
پولیس نے لاٹھی چارج کرتے ہوئے 25 سے زائد ڈاکٹرز پرامیڈیکس کو گرفتار کرلیا، لاٹھی چارج کے دوران دس ڈاکٹرز زخمی بھی ہوئے جس کے بعد ینگ ڈاکٹرز اور پرامیڈیکس نے کمشنر آفس کے قریب انسکمب روڈ پر ہی دھرنا دےدیا گرفتاری کے باوجود ینگ ڈاکٹرز ایک مرتبہ پھر ریڈزون جانے کا اعلان کردیا
ینگ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ جب تک مطالبات تسلیم نہیں کیے
جاتے احتجاجی دھرنا جاری رہے گا،پولیس نے انتہائی بےدردی سے ڈاکٹرز کو لاٹھی چارج
کا نشانہ بناکر گرفتار کیا انکا کہنا تھاکہ گرفتاریوں سے ڈرنے والے نہیں مطالبات
سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے گے جبکہ ایس ایس پی آپریشن ڈاکٹرز کو پرامن احتجاج
کا کہامگر وہ نا رکے، کارسرکاری می مداخلت اور ریڈزون جانے پر پولیس نے مظاہرین کو
گرفتار کیا دوسری جانب صوبائی وزیر صحت احسان شاہ نے اس معاملے پرپریس کانفرنس
کرتے ہوئے کہاہے کہ ڈاکٹرز کے تنخواہ بڑھانے سے سالانہ فنانس پر 7 ارب روپے کا
بوجھ پڑے گا۔ محکمہ صحت بلوچستان کا سالانہ بجٹ 45 ارب ہےانکاکہناتھاکہ ڈاکٹرز ڈیوٹی
نہ دینے کے باوجود تنخواہ لے رہے ہیں مریضوں کے ساتھ زیادتی ہے اور اس وقت ہمارے پاس اتنی بجٹ نہیں ہے ہم تنخواہ
بڑھائے البتہ درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کرینگے۔ذرائع کے مطابق حکومتی وفد سے
پہلے مرحلے مذاکرات کامیاب اور ایمرجنسی کھولنے کا اعلان کیاگیاہے جبکہ کل کا
احتجاج بھی موخر کیاگیا ہے جبکہ او پی ڈی سروس
کا بائیکاٹ جاری رکھا جائےگا کمیٹی سے مذاکرات کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل
طے کیا جائےگا۔
کوئٹہ میں ینگ ڈاکٹرز کا احتجاج
د
کوئٹہ پولیس دوران احتجاج ڈاکٹرز کوگرفتار کرتے ہوئے
ترجمان ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان.