سندھ ہائی کورٹ کا لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق تحقیقات تیز کرنے اور ضلعی سطح پر ٹاسک فورس بنانے کا حکم ۔ ریمارکس دیئےکیا مختلف اداروں کو خطوط
لکھنے سے تفتیش پوری ہوگئی۔ احساس پیدا کریں
اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔
سندھ ہائی کورٹ میں شہری کامران سمیت دیگر کی بازیابی سے متعلق
درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ تفتیشی افسر نے
بتایا کامران گینگ وار
سرغنہ عزیر بلوچ، سکندر عرف سیکو گروپ کا
رکن تھا،، اور مختلف سنگین نوعیت کے جرائم میں ملوث رہا ہے۔جسٹس محمد اقبال
نے کہا عزیر بلوچ کی گرفتاری ظاہر کردی گئی ،،تو اس کی کیوں ظاہر نہیں کی جارہی۔غریب
لوگ ہیں، کچھ خیال کریں۔ تفتیشی افسر نے کہا
کامران کسی کی حراست میں نہیں ہے۔ جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے کہا تو پھر تلاش کریں ۔آپ کا کام ہے لاپتا
افراد کو تلاش کرنا۔ عدالت نے پوچھا کہ لاپتا بلال خان کی بازیابی کے لیے کیا
اقدامات کیے گئے ہں۔ تفتیشی افسر نے بتایا
مختلف اداروں کو خطوط لکھے ہیں۔ بیشتر نے جواب نہیں دیا۔ عدالت نے اظہار
برہمی کرتے ہوئے کہا یہ کونسا طریقہ ہے تفتیش کرنے کا۔خط لکھنے سے تفتیشی پوری
ہوگئی۔ لگتا ہے خط بھی خود نہیں لکھے ہوں گے۔ احساس پیدا کریں اور ذمہ داری کا
مظاہر کریں۔ عدالت نے لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق تحقیقات تیز کرنے اور
ضلعی سطح پر ٹاسک فورس تشکیل دینے کا حکم دے دیا۔سولہ فروری کو آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔