اسٹیٹ بینک کا شرح سود نو اعشاریہ سات پانچ فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

عدنان اطہر عدنان اطہر

اسٹیٹ بینک کا  شرح سود نو اعشاریہ سات پانچ فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

اسٹیٹ بینک کا  شرح سود نو اعشاریہ سات پانچ فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ ۔ گورنر اسٹیٹ بینک  کا کہنا ہے  مہنگائی میں کمی اور   شرح نمو  چار سے پانچ  فیصدرہے گی۔منی بجٹ سے ٹیکس کلیکشن  میں ا ضافہ ہوگا۔

گورنر اسٹیٹ بینک  رضا باقر  کا کہنا ہے مانیٹری پالیسی کمیٹی نے  شرح سود نو اعشاریہ سات پانچ فیصد پر برقراررکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔یہ شرح سود ہماری معیشیت کے لئے اہم  اور  بہتر ہے۔ اسے مزید بڑھانےکی ضرورت محسوس نہیں ہورہی۔ انہوں نے کہا  مہنگائی میں کمی آئے گی۔ جی ڈی پی میں نمو چار سے پانچ  فیصدرہے گی۔آئل درآمد   نکال دیں،، تو کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بہتر ہوگا۔رضا باقر  کا کہنا تھا کہ  حکومتی پالیسی کی وجہ سے زرمبادلہ کے زخائر میں اضافہ ہوا ہے ۔  روشن ڈیجیٹل اکاونٹ کے حوصلہ نتائج سامنے آرہے ہیں۔   اسٹیٹ بینک ایکٹ منظور ہوجائے،، تب بھی ہم  تین مرحلوں میں کام کرتے ہیں۔منی بجٹ سے ٹیکس کلیکشن بڑے گا۔