سپریم کورٹ نے شاہراہ فیصل پر واقع نسلہ ٹاور کو
گرانے کا حکم دیا لیکن انتظامیہ چار روز گزرنے کے باوجود عمارت پر نوٹس تک نا لگا
سکی۔
کراچی کے علاقے شاہراہ فیصل پر قائم نسلہ ٹاور میں
پینتالیس خاندان آباد ہیں۔
عمارت
کے چار فلور پارکینگ جبکہ دس منزلوں پر رہائشی فلیٹس ہیں عمارت کو سپریم کورٹ کراچی
رجسٹری میں چیف جسٹس آف پاکستان نے غیر قانونی قرار دیتے ہوئے گرانے کا حکم دیا۔
عمارت
کے مکین کہتے ہیں چار سال قبل محنت مزدوری کرکے گھر خریدہ اب متبادل کہا سے لائینگے۔
سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق کمشنر کراچی عمارت
کو خالی کروائیگے جس کے بعد ایس بی سی اے عمارت کو گرانے کا کام کریگی لیکن چار
روز گزرنے کے باوجود عمارت کے رہائشیوں کو نوٹس تک نا دئیے جاسکے۔
چہرہ کی ٹیم نے اس حوالے سے کمشنر کراچی سے
جب رابطہ کیا تو انہوں نے موقف دینے سے انکار کردیا۔
نسلہ ٹاور کے مکین کہتے ہیں جب عمارت بنی اس وقت
اس کے خلاف کاروائی ہونی چاہیے تھی اب 45
آبادخاندان کہاں سکونت اختیار کرینگے اس کے لیے اب تک کوئی لائحہ عمل واضح نہیں کیا گیا ۔