اسلام آباد میں اپوزیشن کی مشترکہ جماعتوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ آج بہت اہم دن تھا ،عدم اعتماد کی تحریک زیربحث ہونی تھی،اسپیکر کو قانون کی پابندی کرتے ہوئے اس تحریک پر بات کرنے دیتے۔
مسلم لیگ ن کے رہنما شہباز شریف کا کہناتھاکہ اسپیکر نے اسمبلی کی
تاریخ میں گنوانا کردار ادا کیا ,آج پوری دنیا کی نظریں پارلیمنٹ میں لگی ہوئی ہیں,اسپیکر
نے پیر کو اجلاس بلایا ہے۔
ان کا کہناتھاکہ پیر کو اگر اسپیکر نے غیر آئینی ،غیرقانون عمل کیا
تو ہم ہر قانون کارروائی کریں گے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہاہےکہ اسپیکر
عمران خان کا آلہ کار بن کے سیشن سے بھاگے ہیں، ان کا خوف اس
وقت پتہ چل گیا جب انہوں نے پارلیمنٹ لاجز پر حملہ کیا تھا،انہوں نے سندھ ہاوس میں
بھی حملہ کروایا۔
انہوں نے سندھ ہاوس میں بھی حملہ کروایا،ہم اپوزیشن جماعتیں متحد ہیں
،عمران کو بھاگنے نہیں دیں گے، انشااللہ مقابلہ ہوگا،عدم اعتماد کی تحریک میں ہمیں
کامیابی ہوگی،اگلے سیشن تک عمران خان سابق وزیر اعظم بن چکا ہوگا۔
جمعیت علماء اسلام ف کے رہنما اسعد محمود نےکہاکہ اسپیکر پارٹی وفد میں
شامل ہوکر اتحادیوں سے ملاقاتیں کررہے ہیں، آپ کو چاہئے تھا کہ آپ 22کروڑ عوام کی
نمائندگی کرتے،ہم پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بھر طاقت کا مظاہرہ کریں گے، اسپیکر
کا اج اسمبلی میں کردار وزیراعظم کے زاتی نوکر جیسا تھ، اسپیکر سیلیکٹڈ وزیراعظم
کے لیے ووٹ مانگ رہے ہیں اسپیکر کو چاہیئے تھا کہ وہ ایوان میں 22کروڑ کی عوام کے
ترجمان کا کردار نبھائیں نہ کہ وزیراعظم کے تنخواہ دار نوکر کا
بی این پی مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہاکہ عدم اعتماد کی
تحریک جمع ہونے کے بعد انہوں نے راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش کی،
ان کا کہناتھاکہ یہ لوگ اخثریت کھو چکے ہیں جس کی وجہ سے راہ فرار
اختیارکی،آج اسمبلی میں جو کچھ ہوا آپ کے سامنے ہے،آج حکومت کی پاس اکثریت ہوتی تو
حکومت یہ نہ کرتی،جمہوریت اور پارلیمان آئین کے مطابق چلائی جاتی ہیں،موجودہ حکومت
نے ایسا کچھ نہیں چھوڑا جس میں آئین کی پامالی نہ ہو