ماہرین کا کہنا ہے کہ تمباکو اور شراب نوشی ، چھالیہ کا استعمال اور ورزش نا کرنا غذائی نالی کے کینسر کا باعث بن سکتا ہے،،،

عمران عمران

 ماہرین کا کہنا ہے کہ تمباکو اور شراب نوشی ، چھالیہ کا استعمال اور ورزش نا کرنا غذائی نالی کے کینسر کا باعث بن سکتا ہے،،،

 

ماہرین کا کہنا ہے کہ تمباکو اور شراب نوشی ، چھالیہ کا استعمال اور ورزش نا کرنا غذائی نالی کے کینسر کا باعث بن سکتا ہے،،،

سال 2020 کے اعداد و شمار کے مطابق غذائی نالی کے کینسر سے ہونے والی اموات تمام کینسر سے کونے والی اموات کا پانچ اعشاریہ پانچ فیصد ہے،،

 ڈاؤ یونیورسٹی میں کینسر کی آگاہی کے حوالے سے سیمینار منعقد کیا گیا

ایسوفیجل یعنی غذائی نالی کا کینسر دنیا بھر میں اموات کی چوتھی بڑی وجہ ہے،،،

پاکستان میں ایک لاکھ افراد میں چار سے زائد افراد اس مرض میں مبتلا ہیں۔

ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں غذائی نالی کے سرطان کی آگہی کے حوالے سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ اینڈو اسکوپی اور بائیوپسی سے متعلق لوگوں کے غلط تصورات علاج کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں،

ڈاکٹر ساجدہ قریشی کا کہنا تھا کہ کینسر کے علاج سے قبل اس کی علامات کو جاننا ضروری ہے،،

  کھانا نگلنے میں دشواری،  وزن میں غیر معمولی کمی،  کھانے کا حلق میں پھنسنا یا دوبارہ واپس آنا اس مرض کی علامات ہیں،

  آگہی کے ذریعے اس سے بچاؤ ممکن ہے۔

طلبا کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے سیمینارز کی مدد سے مرض اور اس کے علاج کے بارے میں سیکھنے کو بہت کچھ ملتا ہے،،

2020 کے اعداد و شمار کے مطابق غذائی نالی کے کینسر سے ہونے والی اموات تمام کینسر سے ہونے والی اموات کا پانچ اعشاریہ پانچ فیصد تھیں،،

اور اس کینسر کی شرح 3 اعشاریہ ایک فیصد ہے،،

  مردوں میں اس کینسر کی شرح 6 اعشاریہ 8 جبکہ خواتین میں 5 اعشاریہ 3 فیصد ہے۔