سندھ ہائی کورٹ نے ٹک ٹاکر
حریم شاہ کی ایف آئی اے انکوائری کے خلاف دائر درخواست کا تحریری حکم نامہ جاری
کردیا ۔
تحریری حکم کے مطابق ایف آئی اے
نے اکتیس جنوری دوہزار بائیس کو حریم شاہ کو انیس جنوری تک تفتیشی افسر کے سامنے پیش ہونے کا
نوٹس جاری کیا تھا ۔
حریم شاہ نے اپنے اٹارنی کے ذریعے عدالت سے رجوع کیا ۔ اٹارنی نے
عدالت کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ پاکستان پہنچتے ہی انکوائری جوائن کریں گی۔
عدالت نے ایف آئی اے کو حریم شاہ کے خلاف ایف آئی اے کو کاروائی سے
روک دیا تھا ۔ آٹھ مارچ کو حریم شاہ کے وکیل نے بتایا کہ وہ ترکی میں زیر علاج ہیں۔
ترکش زبان میں ایک سرٹیفیکیٹ پیش کیا گیا جو درخواست گزار کے وکیل کی
سمجھ میں بھی نہیں آرہا تھا۔
تحریری
حکم کےمطابق حریم شاہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا
کہ وہ پندرہ اپریل تک پاکستان آ
کر انکوائری جوائن کریں گی ۔اٹھارہ اپریل
کو بتایا گیا کہ حریم شاہ عمرہ کرنے سعودی
عرب چلی گئیں ہیں ۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ حریم شاہ نے ویڈیو بناکر اپنے بیان
پر معافی مانگ لی ہے ۔
تفتیشی افسر کےمطابق عدالت کو یقین دہانی کرانے کے باوجود تین ماہ گزر چکے ہیں، حریم شاہ
پاکستان نہیں آئیں نا انکوائری جوائن کی۔
تحریری حکم میں کہا گیا ہے کہ حریم شاہ کے وکیل عدالت کو مطمئن کرنے
میں ناکام رہے ہیں ۔ انہیں مزید مہلت نہیں دی جاسکتی۔ حریم شاہ پاکستان میں نہیں ہیں
اور کب آئیں گی کچھ پتہ نہیں ہے۔
اب اس درخواست کو زیر سماعت رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ عدالت نے ایف
آئی اے کے نوٹس کے خلاف حریم شاہ کی درخواست مسترد کردی۔
عدالت نے ایف آئی اے کو حریم شاہ کے خلاف
کارروائی نہ کرنے کا حکم نامہ واپس لے لیا۔
عدالت نے قرار دیا ہے کہ حریم شاہ پاکستان واپس آنے پر قانون کے
مطابق اپنا حق استعمال کرسکتی ہیں ۔