سال دوہزا ر بائیس معاشی اعتبارسےہرگزرتےدن
کےساتھ مشکل تر ہوتا جارہا ہے ۔
ڈالرکامسلسل اتارچڑھاو معاشی چیلنجزکوجنم دے
رہاہے
۔آج انٹربینک میں ڈالربیالیس پیسے
معمولی کمی سےایک سوپچاسی روپےباسٹھ پیسے پربندہوا۔
رواں ماہ ڈالر تاریخ میں پہلی بارایک ہی دن میں ایکساتھ تین روپےسےزائد سستا بھی ہواتھا۔
اوربلندترین سطح کوبھی چھوچکاہے۔
انٹربینک میں ڈالرآج بیالیس پیسے سستاہوکرایک
سوپچاسی روپےباسٹھ پیسے کی سطح پربندہوا۔
6 روز میں ڈالر 5.95 روپےتک مہنگا ہوگیا۔۔ 16پریل کوڈالر181.55
روپے کی سطح پرموجودتھا۔
رواں ماہ ہی ڈالربلند ترین سطح 188روپے18 پیسے
پرپہنچنےکےبعد دوبارہ سستا ہواتھا لیکن پھرمہنگا ہونا شروع ہوگیا۔
نئی تشکیل پانےوالی حکومت بھی ڈالرکوقابونہ
کرسکی۔
۔رواں سال کےآغازسے ہی ڈالرکی قیمت
میں استحکام برقرارنہ رہ سکا۔۔
ایک ماہ میں ڈالر5.8 فیصد مہنگا ہوکر 10 روپے39
پیسےتک بڑھ گیا۔۔
سال 2022 میں ڈالر27 روپے 69 پیسےتک مہنگا ہوا
ماہرین کہتےہیں کہ ڈالرکی قیمت کوفوری کنٹرول
کرنا ضروری ہے۔
بیلنس آف پیمنٹس۔۔ بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ ۔
درآمدات کی بڑھتی شرح نےڈالرکومضبوط جبکہ
روپےکوبےقدرکردیا ہے