جامعہ کراچی میں واقع صوبے کی بڑی ڈی این اےلیب نےپولیس کو سزایافتہ مجرموں کاڈی این اےریکارڈمحفوظ رکھنے کی تجویز پیش کردی۔

چہرہ ڈیسک چہرہ ڈیسک

جامعہ کراچی میں واقع صوبے کی بڑی ڈی این  اےلیب نےپولیس کو سزایافتہ مجرموں کاڈی این اےریکارڈمحفوظ رکھنے کی تجویز پیش کردی۔

جامعہ کراچی میں واقع صوبے کی بڑی ڈی این  اےلیب نےپولیس کو سزایافتہ مجرموں کاڈی این اےریکارڈمحفوظ رکھنے کی تجویز پیش کردی۔ 

سنگین جرائم میں ملوث  مجرم رہائی کےبعددوبارہ جرائم   میں ملوث  ہوا ،،،توکھوج لگاناآسان ہوگا۔

سنگین جرائم میں ملوث کوئی بھی مجرم رہائی کےبعددوبارہ جرائم کی سرگرمی میں ملوث  ہوا ،،،توکھوج لگاناآسان ہوگا۔

سندھ کی  بڑی ڈی این اےلیب کی سزایافتہ مجرموں کا ڈی این اےڈیٹامحفوظ کرنے کی تیاری۔

سندھ پولیس کوتجویز ارسال کردی گئی۔جامعہ کراچی میں واقع  ڈی این اےاینڈ سیرولوجی لیب کےسربراہ ڈاکٹراشتیاق کہتےہیں   کہ  رہائی کےبعداگرکوئی مجرم دوبارہ سنگین جرائم میں ملوث پایاگیا،،

توواردات کی ابتدائی تفتیش میں کرائم سین کےڈی این اےسےمجرموں کی کھوج لگانا ممکن ہوسکے گا ۔

ڈاکٹر اشتیاق، سربراہ ڈی این اے لیب جامعہ کراچی  کہتے ہیں کہ جب اس کی پروفائل ڈیٹابیس میں ہوگی تو کسی بھی جگہ اس نے جرم کیاتو اس کے شواہد بائیولوجیکل  سیمپل ملنےسےڈیٹابیس میں میچ کرنےپرشناخت ہوجائینگے۔۔۔

ڈاکٹراشتیاق  کا کہنا ہے کرائم سین پرمجرم کےکئی شواہدموجودہوتےہیں ۔تجویزمنظورہونےاورپولیس کی رضامندی کےبعدافرادی قوت بھی بڑھائی جائےگی۔ تفتیشی پولیس افسران کوشواہداکھٹے کرنےکی تربیت بھی فراہم کی گئی ہے۔

ڈاکٹر اشتیاق، سربراہ ڈی این اے لیب جامعہ کراچی کہتے ہیں کہ ہم پولیس کویاکرائم سین یونٹ کو ٹریننگ دیتے ہیں۔

مقصد اچھی طرح شواہداکھٹاکرنےاورچین  آف اسٹیڈی کےذریعے محفوظ بناناہے۔

شعبہ آئی سی سی بی ایس کےزیرتحت تین سال قبل قائم ہونےوالی ڈی این اےسیرولوجی لیب تحقیقات کےلیےمصنوعی  کرائم سین سمیت جانچ کےلیےجدیدطرزکی مشینری اوردیگرسہولیات سےحامل ہے۔

اغوااورقتل کےمتعددکیس حل کرنےمیں ڈی این اےلیب نےپولیس  کو معاونت  فراہم کی ہے۔