کراچی موسمیاتی تبدیلیوں کی لپیٹ میں ہے ، ہر گزرتے دن کے ساتھ موسم کی سختیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔

عرفان علی عرفان علی

کراچی موسمیاتی تبدیلیوں کی لپیٹ میں ہے ، ہر گزرتے دن کے ساتھ موسم کی سختیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔

 

کراچی موسمیاتی تبدیلیوں کی لپیٹ میں ہے ، ہر گزرتے دن کے ساتھ موسم کی سختیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔

شہر میں جب جب بارش ہوتی ہے ۔

سیلابی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔

وجہ برساتی نالوں میں موجود کچرا ہے ۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں اڑتالیس بڑے جبکہ تین سو چالیس چھوٹے برساتی نالے ہیں ۔

لیکن ان نالوں کے زریعے سال کے بارہ مہینے ۔

سیوریج کا پانی ۔۔ لیاری ندی اور ملیر ندی سے ہوتا ہوا سمندر میں ڈالا جاتا ہے ۔

ہر سال کی طرح شہر کے بیشتر چھوٹے بڑے برساتی نالے کچرے سے بھرے ہوئے ہیں

 بارشوں میں تو سمجھ لو بہت پریشانی ہوتی ہے ، پانی گھروں میں آتا ہے ، روڈ کا کچرا بھی نالے میں آجاتا ہے

یہاں سارے نالے بھرے ہوئے ہیں ، صاف صفائی نہیں ہو تی، کچرا اٹھانے لوگ بہت کم آتے ہیں

اگست 2020 میں ہونے والی بارشوں کے بعد شہر کے تین بڑے برساتی نالوں کو بحال کرنے کا منصوبہ شروع کیا گیا ۔

محمود آباد نالے کی از سر نو بحالی کا کام مکمل ہو چکا ہے ۔

گجر نالے اور اورنگی ٹاؤن نالے کو بحال کرنے کا کام تاحال جاری ہے  ۔

لیکن وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ مطمئن ہیں کہ برسات کے دوران شہریوں کو پہلے جیسی صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا

تین بڑے نالوں پر کافی حد تک کام ہو چکا ہے ، دیگر نالے کی صفاٗی کا پراسس شروع ہے ، ایک پراپر طریقہ کار جو اپنایا جاتا ہے ہمیشہ وہ ابھی شروع ہونے کو ہے لیکن ڈی ایم سی ہو یا کے ایم سی ان کی جانب سے صفائی کا کام ہو رہا ہے اور انشاء اللہ اس دفعہ ایسی صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک شہر سے یومیہ 16 ہزار ٹن سے زائد کچرے کو اٹھانے اور ٹھکانے لگانے نظام نہیں بنایاجائے گا ۔

اس وقت تک ہر سال برساتی نالوں کو صاف کرنے پر کروڑوں روپے خرچ کرنے پڑیں گے

کراچی کے چھوٹے بڑے برساتی نالے ، سیوریج سسٹم نہ ہونے کے باعث اب سیوریج کے نالوں میں تبدیل ہو چکے ہیں ۔

حکومت کی جانب سے کچرے سے بھرے نالوں کی صفائی کے حوالے سے تاحال کوئی حکمت عملی سامنے نہیں آئی ہے ۔