ابھی سال کا
اختتام نہیں ہوا،،لیکن ڈالرنےنئی تاریخی بلندی کوچھولیا۔۔ ایک سال کےدوران
36روپے75 پیسوں تک مہنگا ہوکرملکی تاریخی میں پہلی بار 202 روپے82 پیسوں کی سطح
کوچھوچکا ہے،،ایک سال قبل ڈالرکی قیمت 166 روپے7 پیسےتھی ۔
مالی سال
دوہزاراکیس کےآغازمیں ڈالرکی قیمت 159 روپےپرٹریڈ ہورہی تھی جو دسمبر2021
کےاختتام پر19 روپےمہنگا ہوکر178 روپےکی سطح تک پہنچ گیا تھا۔۔
سال
دوہزار22 معاشی اعتبارسےہرگزرتےدن کےساتھ مشکل تر ہوتا جارہا ہے،، رواں سال
کےآغازسے ہی ڈالرکی قیمت میں استحکام برقرارنہ رہ سکا۔۔ صرف ایک ماہ میں ڈالر5.8
فیصد جبکہ رواں سال میں 19 فیصد مہنگا ہوکر36 روپے75 پیسےتک بڑھ گیا۔ جنوری 2022
سےاب تک 24 روپے82 پیسوں تک مہنگا ہوچکا ہے۔۔
ماہرین
کہتےہیں کہ ڈالرکی قیمت کوفوری کنٹرول کرنا ضروری ہے۔۔ بیلنس آف پیمنٹس۔۔ بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ ۔۔ درآمدات کی بڑھتی
شرح نےڈالرکومضبوط جبکہ روپےکوبےقدرکردیا ہے۔۔ رواں سال اپریل کےمہینےمیں ڈالرایک
دن میں ایکساتھ 3 روپےسےزائد بھی سستا ہوچکا ہے،،
جنوری 2022
میں ڈالر175 سے177 روپےکی قیمت میں فروخت ہوا۔۔ فروری میں ڈالرمعمولی سستا ہوا
اورکم ہوکر 174 روپےکی سطح پرآگیا
مارچ کا
اختتام پر177 روپے47 پیسےرہا،، اپریل میں ڈالر185 روپے63 پیسوں کی سطح پرموجود
تھا،، مئی میں ڈالرنےڈبل سنچری مکمل کی اب جون میں ڈالرنئی تاریخی بلندی 202روپے82
پیسوں تک ٹریڈ ہوا۔۔
دوسری جانب ملکی زرمبادلہ ذخائر2021 کےاختتام پر
24ارب 63کروڑڈالرکی سطح پرموجود تھے جو مئی 2022میں 16ارب 37 کروڑ ڈالرکی سطح
پرآچکےہیں جسمیں مرکزی بینک کے ذخاٸر کی مالیت 10 ارب 30 کروڑ ڈالر ہےجبکہ کمرشل
بینکوں کے پاس 6 ارب 6کروڑ ڈالر کے ذخاٸر ہیں