لیاری گینگ وار کے مبینہ سرغنہ عذیر بلوچ قتل،اغواء اور پولیس مقابلے کے مزید تین مقدمات میں بری۔ اب تک پینسٹھ میں سے اکیس کیسز میں بری ہوچکے ہیں۔

عرفان علی عرفان علی

لیاری گینگ وار کے  مبینہ سرغنہ عذیر بلوچ  قتل،اغواء اور پولیس مقابلے کے  مزید تین مقدمات میں بری۔ اب تک پینسٹھ میں سے اکیس  کیسز میں بری ہوچکے ہیں۔

لیاری گینگ وار کے  مبینہ سرغنہ عذیر بلوچ  قتل،اغواء اور پولیس مقابلے کے  مزید تین مقدمات میں بری۔ اب تک پینسٹھ میں سے اکیس  کیسز میں بری ہوچکے ہیں۔

 کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے لیاری گینگ وار کے  مبینہ سرغنہ عذیر بلوچ   سمیت  دیگر ملزموں کو عدم شواہد کی بنا پر  بری کردیا۔

 دیگر ملزمان میں ذاکر ڈاڈا اور شاہد عرف ایم سی بی شامل ہیں ۔

 دوران  سماعت عذیر بلوچ کے وکیل نے دلائل دیئے کہ پولیس کی جانب سےلیاری گینگ وار کے  مبینہ سرغنہ  پر لگائے گیے الزامات جھوٹے ہیں ۔

  پولیس ملزم کے خلاف شواہد بھی پیش نہیں کرسکی۔

تینوں مقدمات کلری تھانے  مٰیں دوہزار سترہ  میں   قتل،اغواء اور پولیس مقابلے سمیت دیگر الزامات کے تحت درج کئے گئے  تھے۔

 عذیر بلوچ کے خلاف   مجموعی طور پر  پینسٹھ مقدمات درج کئے گئے  تھے،،

جن میں سے پینتیس  اے ٹی سی میں زیر سماعت ہیں۔

 لیاری گینگ وار کے مبینہ سرغنہ  عذیر بلوچ پینسٹھ میں سے اکیس مقدمات میں بری ہوچکے ہیں۔